ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2004 |
¾اكستان Ù |
|
(١٨) ''مباہلہ کا چیلنچ منظورہے '' (١٩) ''مناظرہ ناروے'' (٢٠) ''لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا'' (٢١) ''ملتِ اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں'' (٢٢) ''خسوف وکسوف '' یہ قادیانی اخبارالفضل انٹر نیشنل لندن کے خسوف و کسوف نمبر کا جواب ہے۔ (٢٣) ''ربوہ سے چناب نگرتک '' ربوہ کے نام کی تبدیلی کے لیے جو کوششیں کی گئیں ، اس کتاب میں ان کا تفصیلی ذکر ہے ۔ قادیانی مبلغین کے توڑ کے لیے اور ردِ قادیانیت کے کام کو منظم کرنے کے لیے آپ نے ١٩٧٠ء میں ''ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد'' چنیوٹ میں قائم کیا۔ ادارہ کی طرف سے بلامبالغہ لاکھوں پمفلٹ اب تک مفت تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ آپ نے واشنگٹن امریکہ میں بھی ''ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد'' کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس میں آپ کے خصوصی شاگرد مولانا حکیم محمد رفیق صاحب کام کررہے ہیں۔ ردِ قادیانیت کے کام کو مزید پھیلانے کے لیے ١٩٩١ء میں'' انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی'' قائم کی گئی جس کا سنگِ بنیاد رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل الشیخ عبداللہ عمر نصیف نے رکھا ، تاہم عارضی عمارت میں حفظ وناظرہ کی کلاسیں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ ''پندرہ روزہ سالانہ تربیتی کورسز'' کا سلسلہ عرصہ چالیس سال چنیوٹ میں جاری رہا۔ اس کے علاوہ مولانا مرحوم مختلف دینی اداروں میں یہی کورس پڑھاتے تھے۔اس کے باوجود آپ تشنگی محسوس فرماتے تھے اِس تشنگی کے ازالہ کے لیے مفکراسلام علامہ خالد محمود صاحب کی مشاورت سے علماء کرام کے لیے ''دو سالہ تربیتی کورس'' کا اہتمام کیا جس میں اُن کو تقابلی مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ احقر اس شعبہ میں بھی پانچ چھ سال سے مصروف کارہے۔ پندرہ سے زائد فضلائے کرام یہ کورس مکمل کرچکے ہیں۔ احقر راقم الحروف کو مولانا چنیوٹی سے خاص تعلق تھا ۔ وہ احقر کے رشتہ کے دادا جان مولانا دوست محمد ساقی مرحوم کے خاص شاگرد تھے اور احقر ان کا خصوصی شاگرد ہے ۔ اس دوطرفہ تعلق کی وجہ سے ہمیشہ استاذ محترم سے انتہائی محبت وعقیدت رہی ۔محبت و عقیدت کی اِس شمع کو حوادثاتِ زمانہ بجھا نہ سکے ۔ تحدیث ِنعمت کے طورپر عر ض ہے استاذمکرم مولانا منظور احمدچنیوٹی کو اِس عاجز پر ہمیشہ اعتماد رہا ہے ۔وہ اپنے پاس آنے والے بہت سے خطوط کے جوابات لکھنے کی ذمہ داری اس عاجز پر ڈالا کرتے تھے ۔الحمد للہ اُن کے اعتماد پر پورا اُترتارہا ۔ احقر کی کئی تصانیف پراستاذ ِمحترم کی تصدیقات درج