ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2004 |
¾اكستان Ù |
|
جس ''ربوہ '' کا ذکر آیاہے اُس سے مراد ربوہ شہر ہے۔ مولانا چنیوٹی اسمبلی میں کوشش کرتے رہے اور ممبران و سپیکر کو قائل کرتے رہے لیکن اسپیکر نہ مانتا تھا تو مولاناچنیوٹی نے سابق صدر جناب رفیق تارڑ صاحب سے وقت لیا اوراُن سے بات کرتے ہوئے رو پڑے اور کہا ، صدر صاحب ! خدا کے لیے آپ تعاون کریں ، میری کوئی نہیں مانتا ۔صدر صاحب کی سرزنش پر اسپیکر اسمبلی نے قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی اورتمام ممبران کے اتفاق سے ربوہ کا نام بدل دیا گیا۔ اس طرح قادیانی مکروفریب کا ایک دروازہ بند ہوا۔ اسی طرح آپ نے صدر ضیاء الحق مرحوم سے ملاقات کی اوراُن کو مرزا محمود کی تصنیف ''تفسیر صغیر'' میں درج تحریفات کے نمونے دکھائے تو مولانا کی تحریک پر صدرضیاء نے تفسیر صغیر پر پابندی کے احکامات جاری کیے۔ مولانا چنیوٹی کی قوت ِحافظہ کمال درجہ کی تھی ۔آخری عمر تک اس میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آپ کی آخری دور کی تقاریرسن کرحیرانی ہوتی تھی کہ ''ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی''۔ صدر ایوب کے زمانہ میں شیخ محمد شلتوت جو جامعہ ازہر کا شیخ تھا، اس نے فتوٰی دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اورقادیانی اس فتوٰی کی بڑی اشاعت کررہے تھے۔ مولانا چنیوٹی نے محدث کبیر حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری کے مشورہ پر ائمہ حرمین اورمفتی اعظم سعودیہ شیخ ابن باز سے فتاوٰی حاصل کیے اور اس کے بعد اس پر بلاامتیازِ مسلک پاکستان، ہندوستان ، بنگلہ دیش کے ہزاروں علماء کرام کے تائیدی دستخط کرائے (سوائے مولانا مودودی کے کہ انہوں نے دستخط کرنے سے انکار کیا۔ مولانا مودودی کے انکار کے گواہ مولانا عبدالمالک آج بھی منصورہ لاہور میں موجود ہیں)۔ اس فتوٰی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کو ثابت کیا گیا تھا۔ مولانا نے اِن فتاویٰ کے حصول کے لیے جو جدوجہد کی وہ آپ کے سوانح عمری کا ایک مستقل باب ہے ۔ اب ان فتاوٰی کا مجموعہ ''فتاوٰی حیات مسیح '' کے نام سے ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد سے دستیاب ہے۔ مرزا محمود کی تحریر کردہ ''تفسیر صغیر ''انتہائی مختصر ہونے کے باوجود تحریفات کا ایک نادر نمونہ ہے ۔ جگہ جگہ غیر محسوس انداز میں تلبیسات وتحریفات بھردی گئی ہیں ۔اُستاذِ محترم مولانا چنیوٹی کے پر اصرار حکم پر احقر نے ان تلبیسات وتحریفات کا تنقیدی جائزہ لکھا ۔ترجمہ قرآن مجید میں درج تحریفات کا جائزہ مکمل ہو چکا ہے۔ استاذ مرحوم نے لفظ بلفظ پڑھا اوراپنی تصدیق سے نوازا ۔'' تفسیر صغیر '' کے حواشی پر نقد ونظر کا کام ابھی تشنہ تکمیل ہے ۔ بیس پارے مکمل ہوچکے ہیں، دس باقی ہیں کاش یہ کام آپ کی زندگی میں مکمل ہو جاتا اورآپ کی آنکھیں مزید ٹھنڈی ہوتیں۔ بہر حال ''وہی ہوتا ہے جو منظورخداہوتا ہے ''۔ ''ردِ قادیانیت کے زریں اصول'' استاذ مرحوم کی زندگی بھر کی تحقیقات کابے مثال مجموعہ ہے جوکہ باربار چھپ کر عوام وخواص سے خراجِ تحسین وصول کررہاہے ۔آپ کی بعض دیگر تالیفات کامختصر تعارف درج ذیل ہے :