ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2004 |
¾اكستان Ù |
|
''قادیانی سربراہ موکد بعذاب قسم اُٹھائیں کہ مرزا قادیانی نے اور خود انھوںنے کبھی شراب پی ہے، نہ زنا کیا ہے ، اور نہ لواطت میں کبھی فاعل اور مفعول بنے ۔ان کے بالمقابل میں موکد بعذاب قسم اُٹھاتاہوں کہ میں ویسے توبہت گنہگار ہوں لیکن اِن چاروں مذکورہ عیوب سے پاک ہوں''۔ مولانافر ماتے تھے کہ ویمبلے ہال لندن میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے باوضو قرآن مجید ہاتھ میں لے کر جب میں نے قسم اُٹھائی تو ہال چیخوں سے گونج اُٹھا ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ،مولانا چنیوٹی کو ردقادیانیت سے جنون کی حد تک لگائو تھا ۔ یہ جنون انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیتا تھا ۔ عرصہ چالیس سال سے ١٠ شعبان سے ٢٥شعبان تک علماء وکلا ، پروفیسر حضرات اور عام پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے کورس کرانے کا معمول رہا جس میں وہ اپنا دردِ دل اوراپنے تجربات ان تک منتقل کرتے رہے ۔ علاوہ ازیں جامعہ اشرفیہ لاہور ، دفتر تنظیم اہلِ سنت ملتان ، جامعہ اسلامیہ بنو ری ٹائون سمیت ملک کے اہم اداروں میں بھی تربیتی کورسز کا سلسلہ جاری رہا۔ ١٩٩١ء میں ہندوستان میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں پھیلنے لگیں تو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب نے ایک تربیتی کیمپ لگایا، ملک بھر کے ہزاروں علماء کو مولانا چنیوٹی صاحب نے تربیت دی ۔ مولانا چنیوٹی سے تربیت پاکر انڈیا کے علماء نے قادیانیت کے تعاقب کا حق ادا کردیا اور آج وہاں قادیانیت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ مولانا چنیوٹی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور دیگر سعودی اداروں میں آپ نے ہزاروں طلباء کو تربیت دی ۔اُن طلباء میں ایک روایت کے مطابق یحیٰی ابوبکر بھی شامل تھے جو کہ بعد میں گیمبیا کے صدر بنے اور انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اُن کی املاک ضبط کرلیں ۔ اُردو میں کہتے ہیں : ''جادو جو سرچڑھ کر بولے'' بالفاظِ دیگر عربی کی ضرب المثل ہے : ''الفضل ماشہدت بہ الاعدائ'' پنجابی والے کہتے ہیں ''حسن وہ ہوتا ہے جس کا سوکن بھی اعتراف کرے''۔ مولانا چنیوٹی کی رد قادیانیت کے محاذ پر خدمات کا اعتراف مرزا طاہر کو بھی کرنا پڑا۔ اُس نے قادیانی چینل پر تقریر کرتے ہوئے مولانا چنیوٹی کو ''اشداعداء نا'' (ہمارا سب سے بڑا دشمن ) کا خطاب دیا۔ قادیانی مسلمانوں کا رُوپ دھارکر حصولِ روزگار کے لیے عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کا رُخ کرتے تھے اوروہاں اپنی ارتدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ مولانا چنیوٹی نے اس قسم کے سینکڑوں قادیانیوں کو سعودی عرب سے نکلوایا ۔ مولانا چنیوٹی کی اِن خدمات سے متاثر ہوکر معروف صحافی وادیب ،مجاہد ختم نبوت آغاشورش کشمیری مرحوم نے آپ کو ''سفیرختم نبوت ''کا لقب دیا ۔ آپ کاایک اہم ترین کارنامہ ربوہ شہر کے نام کی تبدیلی ہے۔ قادیانی ہمیشہ دھوکہ دیتے تھے کہ قرآن مجید میں