ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2004 |
¾اكستان Ù |
|
تذکرة العابدین میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے حضرت حاجی صاحب کے استغناء واستقامت پر روشنی پڑتی ہے : '' اجمیر شریف ہی میں حکیم محمد حسن ومولوی امیرالدین صاحب نواب جونہ گڑھ کی طرف سے حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ نواب صاحب آپ کے تشریف لانے جونہ گڑھ کے متمنی ہیں حضور وہاں تشریف لے چلیں، آپ نے انکار کردیا ۔ مگر بہت عرض معروض پر آپ نے فرمایا اس طرح پر چلتا ہوں کہ جہاں میری طبیعت چاہے وہاں ٹھہروں اور جب چاہوں چلا آئوں اور تعظیم وتکریم کچھ نہ ہو ۔ہر دوصاحب نے وعدہ کیا اور نواب صاحب کو تاردے دیا گیا کہ اس وعدہ پرآنا چاہتے ہیں چنانچہ نواب رسول بخش نے بھی جواب تارمیں وعدہ کیا اس وقت آپ جو نہ گڑھ تشریف لے گئے اور ایک مسجد میں جاکر ٹھہر گئے جب نواب صاحب کو خبر ہوئی انہوںنے عرض کرکے بھیجا کہ آپ کے واسطے ایک ایسا مکان تجویز پہلے سے کردیا ہے کہ جس میں سب طرح کا آرام ہے اور سامنے اس کے مسجد بھی ہے آپ نے فرمایا کہ فقیر تو مسجد ہی میں ٹھہراکرتا ہے۔مگر جب سب نے عرض کیا تو آپ مکان میں چلے گئے نواب صاحب ملنے کے واسطے آئے علاوہ اور عرض معروض کے یہ بھی کہا کہ تین سوروپے میں روزخدمت عالی میں بھیجا کروں گا حضور فقراء کو تقسیم کردیا کریں۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی کیا ضرورت ہے ۔ نواب صاحب نے عرض کیا کہ حضور اس میں میری بدنامی ہے کہ نواب کا پیر آیا اور کچھ تقسیم نہ کیا چنانچہ وہ تین سوروپے یومیہ بھیجتے تھے اور فقراء کو تقسیم کردئیے جاتے تھے اورہر وقت ایک ہجوم بہت بڑا آدمیوں کا رہتا تھا اورنواب صاحب ہمیشہ سلام کے واسطے حاضر ہوتے تھے بعد آٹھ روز کے آپ نے فرمایا کہ فقیر اب جاوے گا۔ نواب صاحب نے قریب بیس ہزار روپے کے سامان پیش کرنے کے واسطے کیا ۔حضرت حاجی صاحب کو یہ بات معلوم ہوگئی آپ نے مولوی امیرالدین سے فرمایا کہ فقیر اس واسطے نہیں آیا تھا تم صاحبان کی خوشی کردی ایسا ہرگز نہ کیا جاوے۔ انہوں نے جا کر نواب صاحب سے کہا، نواب صاحب خاموش ہو گئے کیونکہ بذریعہ تار نواب صاحب وعدہ کرچکے تھے آٹھویں روز آپ دیوبند کی طرف روانہ ہوئے نواب صاحب نے مولوی امیرالدین کو آپ کے ہمراہ کیا کہ دیوبند پہنچا آویں ''۔ (تذکرة العابدین ص٨٠ و ص٨١) حضرت حاجی محمد عابد صاحب رحمة اللہ علیہ کی کرامتیں بیان کرتے ہوئے تذکرة العابدین نے لکھا ہے کہ ایک