ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
شارہ کرنا اور دُعا کے دوران انگلی کو ہلاتے رہنا ۔ ان سب باتوں کو نماز کی سنتوں میں شمار کیا ہے حالانکہ ہمارے نزدیک یہ سب باتیں خلافِ سنت ہیں ۔ ہمارے نزدیک ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا سنت ہے جیسا کہ حضرت علی کی روایت سے ثابت ہے۔ تکبیر تحریمہ کی رفع یدین کے علاوہ تمام رفع یدینیں مسنوخ ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت سے ثابت ہے ۔قعدہ اخیرہ میں تو تورک بھی خلافِ سنت ہے ہمارے ہاں اشہد ان پر انگشت ِشہادت کو اُٹھانا اورالا اللّٰہ پر گرا دینا سنت ہے چنانچہ عمدة الفقہ جلد دوم صفحہ ١٠٢ پر نماز کی اٹھاون سنتوں کاذکر ہے لیکن مذکورہ چارباتوں میں سے کسی بات کا وہاں ذکر نہیں ہے۔ (٧) نماز کو باطل کرنے والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بات کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے لیکن اگر بھول کر بات کرلی تو نماز باطل نہیں ہوگی حالانکہ احناف کے نزدیک مطلقاً بات کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے چنانچہ تعلیم الاسلام حصہ چہارم صفحہ ٤٠پر مفسدات ِنماز کا ذکر ہے لکھتے ہیں کہ نماز میں کلام کرنا قصداً ہو یا بھول کر تھوڑا ہو یا بہت ہر صورت میں نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ (٨) میت کی تجہیز وتکفین کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی جبکہ احناف کے ہاں شہید کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم ہے چنانچہ عمدة الفقہ ج٢ صفحہ ٥٥٤ پر ''شہید کامل کے احکام '' کے ذیل میں لکھا ہے ''شہید کامل کو غسل نہ دیا جائے اوراُس کا خون اُس کے جسم سے زائل نہ کیا جائے.......باقی احکام میں شہید کا بھی وہی حکم ہے جو عام موتیٰ کا ہے یعنی اُس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی''۔ (٩ ) میّت کے غسل کے بیان میں فرماتے ہیں اگر میّت کے ناخن اور مونچھیں بڑھی ہوئی ہوں تو اُن کو کاٹ دینا چاہیے حالانکہ ہمارے نزدیک یہ دونوں کام ممنوع ہیں چنانچہ عمدةالفقہ جلددوم صفحہ ٤٩٠ پر لکھا ہے ''میّت کے سر یا ڈاڑھی کے بالوں میں کنگھی نہ کریں اور ناخن اور بال نہ تراشیں اور مونچھیں بھی نہ تراشیں ''۔ (١٠) میّت کو غسل دینے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے حالانکہ ہمارے نزدیک بیوی تو اپنے مردہ شوہر کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ وہ اختتام عدت تک اُس کی بیوی رہے گی لیکن مرد اپنی بیوی کو غسل نہیںدے سکتا چنانچہ عمدةالفقہ جلد ٢صفحہ ٤٩٨ پر لکھا ہے ''اگر عورت مرجائے تو اُس کا شوہر اُس کو کسی حالت میں غسل نہیں دے سکتا اور نہ چھو سکتا ہے ....... اب وہ اس کے حق میں اجنبی ہے جہاں تک حضرت علی کے حضرت فاطمہ کو غسل دینے کی روایت کا تعلق ہے تو ہمارے ائمہ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ بعض صحابہ نے حضرت علی کے حضرت فاطمہ کو غسل دینے سے انکار کیا ہے اور کہاہے کہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ کو غسل دیا تھا چونکہ غسل کے سامان کا تمام انتظام حضرت علی نے کیا تھا اس لیے یہ غسل اُن کی طرف منسوب ہوگیااور اگر اس روایت کو ثابت مان لیا جائے تو اسے