ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
حضرت علی کی خصوصیت شمار کیاجائے گا کیونکہ نبی اکرم ۖ نے فرمایا تھا کہ فاطمہ دنیا وآخرت میں تمہاری زوجہ ہیں ''جبکہ یہ بات کسی دوسرے کے بارہ میں نہیں فرمائی گئی اس لیے اسے حضرت علی کی خصوصیت کہا جائے گا ۔ (١١) نماز جنازہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پہلی تکبیر کے بعد سورة فاتحہ پڑھے اور اگر ساتھ چھوٹی سورة بھی پڑھ لے تو بہتر ہے ۔حالانکہ ہمارے نزدیک پہلی تکبیر کے بعد ثنا پڑھی جاتی ہے چنانچہ مسائل بہشتی زیور صفحہ ١٩٨پر نماز جنازہ کا مسنون ومستحب طریقہ لکھا ہے جس میں سورة فاتحہ پڑھنے کاکوئی ذکرنہیں ہے۔نمازجنازہ کے ذکر میں یہ بھی کہا ہے کہ ہر تکبیرکے ساتھ رفع یدین کرے۔ ہمارے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ کسی تکبیر کے ساتھ رفع یدین نہیں ہے چنانچہ مسائلِ بہشتی زیور ص ١٩٩ پر لکھا ہے :'' اس کے بعد پھر ایک مرتبہ اللہ اکبر کہے مگر اس مرتبہ ہاتھ نہ اُٹھائیں''۔ (١٢) نماز جنازہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کوئی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوا اور میت کو دفن کردیا گیا تو وہ شخص ایک ماہ کے اندر اندر قبر پر نمازجنازہ پڑھ لے۔حالانکہ احناف کے نزدیک نماز جنازہ پڑھے جانے کے بعد قبر پر جنازہ پڑھنے کا کوئی تصور نہیںہے ۔ہاں اگر کوئی مسلمان بغیر نمازجنازہ پڑھنے کے دفن کر دیا گیا تواس کی نمازجنازہ اُس کی قبر پر پڑھی جائے گی جب تک اُس میّت کی نعش کے پھٹنے کا امکان نہ ہو ۔چنانچہ مسائل بہشتی زیور ص١٩٧ پر لکھاہے ''اگر کوئی مسلمان بے نماز پڑھے دفن کردیا گیا ہو تو اُس کی نمازاُس کی قبر پر پڑھی جائیگی جب تک اُس کی نعش کے پھٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو ۔جب خیال ہو کہ اب نعش پھٹ گئی ہوگی تو پھر نماز نہ پڑھی جائے''۔ ان مسائل کے علاوہ بھی مذکورہ کیسٹ میں کچھ اختلافی مسائل ہیں جن سے صرفِ نظر ہو سکتا ہے جن مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے ان سے صرفِ نظر کرنا بہت مشکل تھا۔ اس قسم کے مسائل کو سُن کرعام زائرین پریشان ہو جاتے ہیں اور اپنے علماء پر سے اُن کا اعتماد اُٹھ جاتا ہے بالآخر وہ لامذہبیت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ آخر میں پھر اپنی وزارتِ مذہبی اُمور کے کارپر دازوں سے عرض پرداز ہوں کہ وہ حرمین شریفین کے زائرین کے لیے مستند حنفی علماء سے کتابچے اور کیسٹیں تیار کروا کر سعودی حکومت کو مہیا کرے اور سعودی حکام کو تاکید کرے کہ ہمارے ملک کے زائرین کو فقہ حنفی کے مطابق لکھا ہوا دینی لٹریچرفراہم کیاکرے تاکہ وہ تشکیک وتشتت کا شکار نہ ہوں اثر کرے نہ کرے سُن تو لے میری فریاد نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد ٭٭٭