ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
اكستان |
|
سلسلہ نمبر٦ قسط : ٣ ''الحامد ٹرسٹ''نزد جامعہ مدنیہ جدید رائے ونڈ روڈ لاہورکی جانب سے شیخ المشائخ محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعض اہم خطوط اور مضامین کو سلسلہ وار شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جو تاحال طبع نہیں ہوسکے جبکہ ان کی نوع بنوع خصوصیات اس بات کی متقاضی ہیں کہ افادۂ عام کی خاطر ان کو شائع کردیا جائے۔ اسی سلسلہ میں بعض وہ مضامین بھی شائع کیے جائیں گے جو بعض جرا ئد و اخبارات میں مختلف مواقع پر شائع ہو چکے ہیں تاکہ ایک ہی لڑی میں تمام مضامین مرتب و یکجا محفوظ ہو جائیں ۔(ادارہ) مہتمم اول دارالعلوم دیوبند جناب حضرت مولانا حاجی سیّد محمد عابد صاحب قدس اللہ سرہ ورفع درجاتہ ( نظر ثانی و عنوانات : مولانا سےّد محمود میاں صاحب ) سید محمد ابراہیم رحمہ اللّٰہ جدِّاعلی ساداتِ رضویہ دیوبند ضلع سہارنپور اورتاریخ علم ومعرفت دیوبند میں سادات کے کئی خاندان ہیں مگر سب سے بڑایہی خاندان ہے اور اپنے علم وفضل اور ارشاد وہدایت کے لحاظ سے ہمیشہ نمایاں رہا ہے ۔اس خاندان کے بزرگ تین صدیوں تک رشدوہدایت کی مسندوں پر متمکن رہے ہیں وہ تصوف وطریقت سے شغف کے ساتھ ساتھ علوم شریعت سے بھی آراستہ ہوتے تھے۔ جو لوگ ان کے پاس استفادہ کی غرض سے آتے تھے وہ اپنے دامن کو فیض سے بھر کر لوٹتے تھے۔ ١٢٥٥ھ/١٨٣٩ء میں سہارنپور کی عدالت میں ایک یادداشت پیش کی گئی تھی اس میں تحریر ہے کہ : ''حضرت سیّد محمد ابراہیم قدس اللہ سرہ کی بارگاہ کے طلبہ کی تعلیم اور درویشوں کے خوردونوش کے مصارف اس آمدنی سے پورے کیے جاتے ہیں جو اس مقصد کے لیے شاہجہان بادشاہ نے حضرت سیّد صاحب کے فرزند اکبر حضرت بندگی محمد اسمٰعیل کو عطا فرمائی تھی''۔ بندگی سیّد محمد اسمٰعیل اپنے والد بزرگوار کے بعد ان کے جانشین ہوئے اور تمام عمر درس وتدریس اور تربیت باطنی