ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
(١) شرائطِ وضو کا ذکر کرتے ہوئے نیت کرنا اور نیت کا آخر تک باقی رہنا ذکر کیاہے ۔ہمارے نزدیک نیت کرنا وضو کی شرط نہیں ہے بلکہ وضو کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، ہمارے ہاں نیت کے بغیر بھی وضوہو جاتا ہے لیکن وضو کا ثواب نہیں ملتا ۔چنانچہ تعلیم الاسلام جلد دوم صفحہ ٤٤ پر وضو کی تیرہ سنتوں کا ذکر ہے اُن میں سے نمبر ١ پر نیت کرنا لکھا ہے۔ (٢) وضو کے فرائض کا ذکر کرتے ہوئے کُلی کرنا ،ناک میں پانی ڈالنا ،اعضاء کو ترتیب سے دھونا اور پے درپے دھونا کوفرائض ِوضو میں شمار کیا ہے حالانکہ یہ تمام باتیں وضو کی سنتیں ہیں۔ اگر وضو کرنے والا ان سب کو چھوڑ دے تو ہمارے نزدیک وضو ہو جائے گا جبکہ فرض کے ترک کرنے سے وضو نہیں ہوتا چنانچہ تعلیم الاسلام حصہ دوم صفحہ ٤٤، ٤٥پر اِ ن سب باتوں کو وضو کی سنتوں میں شمار کیا ہے ۔فرائض ِوضو میں تمام سرکا مسح کرنا بھی ذکر کیاہے حالانکہ ہمارے نزدیک تمام سرکا مسح کرنا سنت ہے اور چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے مذکورہ بالا حوالہ میں تمام سر کا مسح کرنا وضو کی سنتوں میں شمار کیا گیا ہے ۔تعلیم الاسلام حصہ دوم صفحہ ٤٤ پر وضو کے چار فرائض کا ذکر ہے جس میں چوتھائی سر کا مسح بھی شامل ہے ۔ (٣) نواقضِ وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ بلا حائل شرم گاہ کو ہاتھ لگانے اور اُونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے حالانکہ ہمارے نزدیک یہ دونوں چیزیں نواقص ِوضو میں شامل نہیں ہیں ۔تعلیم الاسلام حصہ دوم صفحہ ٤٤، ٤٥پر نواقص ِوضو کا ذکر ہے لیکن وہاں اِن دونوں باتوں کا ذکر نہیں ہے۔ (٤) ارکانِ نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آخری قعدہ میں درود شریف پڑھنا بھی نماز کا رُکن ہے۔ حالانکہ یہ ہمارے نزدیک سنت ہے اگر کوئی شخص درود نہ پڑھے تواُس کی نماز ہوجائے گی جبکہ ترکِ رُکن سے نماز باطل ہو جاتی ہے تعلیم الاسلام حصہ سوم صفحہ ١٠٣ پر درود شریف کو نماز کی سنتوں میں شمار کیا ہے۔ (٥) واجباتِ نماز کا ذکر کرتے ہوئے تکبیراتِ انتقال ،تسبیحاتِ رکوع وسجود ،رکوع کے بعد سمع اللّٰہ لمن حمدہ ، ربنا لک الحمدکہنا اور دوسجدوں کے درمیان رب اغفرلی پڑھنے کو واجبات ِ نماز میں شمارکیاہے حالانکہ ان میں سے پہلی تین باتیں نماز کی سنتوں میں شامل ہیں اورچوتھی بات مستحباتِ نماز میں آتی ہے ان کے ترک کرنے سے نماز ہو جاتی ہے اور سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا جبکہ کسی واجب کے ترک پر سجدہ سہو کرنا پڑتا ہے چنانچہ تعلیم الاسلام حصہ سوم صفحہ ١٠٠ پر نماز کی سنتوں کا ذکر ہے اور پہلی تین باتیں وہاں مذکور ہیں اور چوتھی بات نماز کے مستحبات میں شامل ہے دیکھے عمدة الفقہ جلد دوم صفحہ ١٠٤ ۔تو معلوم ہوا کہ ہمارے نزدیک جو چیزیں سنت اور مستحب ہیں اُنہیں واجبات میں شامل کردیاہے ۔ (٦) نماز کی سنتوں کا ذکر کرتے ہوئے سینے پر ہاتھ باندھنا رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع یدین کرنا ،آخری قعدہ میں تورک کرنا یعنی اپنے سرین پر بیٹھنا ،دونوں قعدوں میں تشہد پڑھتے ہوئے شہادت کی انگلی سے اختتام ِتشہد تک