ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
نیکوں کی رُوح کوسُلا دیا جائے گا : اورجو اچھا ہوگا اس کے بارے میں آتا ہے کہ کہہ دیا جائے گا کہ بس سوتے رہو تم، سونے والی کیفیت رہے گی اِن کی، ان شہدا کی کیفیت بڑی ہو گی گویا اُن کو وہاں کی نعمتیں مل رہی ہیں اور فرماتے ہیں کہ اُن کے جو'' مندیل'' ہیں یعنی رومال وہ اس سے بہتر ہیں اور اس سے زیادہ نرم ہیں۔اور تعریف میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ انسان کا خیال جہاں تک پہنچ سکتا ہے تو کہہ دیا جائے اس سے بھی آگے کچھ اور ہے ،اب کیا کچھ ہے، وہ تو اللہ تعالیٰ نے ظاہر نہیں فرمایا ۔ایجادات جب نہیں ہوئی تھیں تو تصور میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ سائیکل پر انسان چل سکتا ہے چہ جائیکہ موٹر سائیکل اور موٹر ریل اور پھر ہوائی جہاز وہ تو خیال سے باہر تھی ،خواہش کی بات الگ ہے خواہشات تو بہت ہوتی ہیں انسان نکلا ہی ایسی جگہ سے ہے جسے جنت کہا کرتے ہیں جو چیزیں وہاں تھیں وہ انسان کی فطرت میں کچھ ہیں جووہاں دیکھی تھیں اُنہی سے خوش ہوتا ہے ،مناظراُسی طرح کے پسند کرتا ہے سبزہ ،پانی یہ چیزیں دیکھتا ہے خوش ہوتا ہے لیکن کیا کیا چیزیں تھیں اور کیا کیا نعمتیں تھیں وہاں، اس کا تو پھر ایسے ہی سمجھ لیجئے جیسے کہ اب سے دوسوتین سوسال پہلے جہازکا تصور نہیں کیاجا سکتاتھا اور اب یہ چیز نکل آئی اسی طرح سے وہ چیزیں جو خدا وند کریم نے وہاں کی نعمتیں رکھی ہیں اُن کے بارے میں فرمایا مالا عین رأتْ ولا اذن سمعتْ ولا خطرَ علی قلب بشر نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کان نے سنی نہ کسی انسان کے ذہن پر وہ بات گزری جو انعامات یا نعمتیں اللہ تعالیٰ نے وہاں رکھی ہیں ۔اللہ تعالیٰ اِن حضرا ت کے درجات بلند فرماتا رہے اور آخرت میں ہمیں ان کا ساتھ عطا فرمائے۔آمین ۔اختتامی دعا............ ٭٭٭ قارئین انوارِمدینہ کی خدمت میں اپیل ماہنامہ انوارِ مدینہ کے ممبر حضرات جن کو مستقل طورپر رسالہ ارسال کیا جارہا ہے لیکن عرصہ سے اُن کے واجبات موصول نہیں ہوئے اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ انوارِ مدینہ ایک دینی رسالہ ہے جو ایک دینی ادارہ سے وابستہ ہے اس کا فائدہ طرفین کا فائدہ ہے اور اس کا نقصان طرفین کا نقصان ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اس رسالہ کی سرپرستی فرماتے ہوئے اپنا چندہ بھی ارسال فرمادیں اوردیگر احباب کوبھی اس کی خریداری کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ جہاں اس سے ادارہ کو فائدہ ہو وہاں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ بن سکے۔(ادارہ)