ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
ہے ،مذکورہ بالاحادثے میں تمام عمارتیں منہدم ہو گئی تھیں صرف جابجا چہاردیواری کے آثار پائے جاتے ہیں ،حضرت سیّد صاحب کی اولاد مدت ہوئی شہر میں منتقل ہوچکی ہے ،صرف ایک دو گھر باقی رہ گئے ہیں اور وہ بھی خستہ حال اور روایات اسلاف سے محروم ہیں ،آج کل یہاں زراعت پیشہ لوگ آباد ہیں ۔اب یہ جگہ ''سرائے پیرزادگان ''کے نام سے موسوم ہے سکھوں کے حادثے میں خانقاہ کی دوسری عمارتوں کی طرح مسجد بھی جو عہدِ جہانگیری کی تعمیر تھی منہدم ہوگئی تھی، ساداتِ رضویہ کے مشہور بزرگ حضرت سیّد محمد انور صاحب نے ١٢٨٥ھ/١٨٦٨ء میں قدیم بنیاد پر ازسرِ نو مسجد تعمیر کرائی ،مسجد میں جو کتبہ نصب ہے وہ اسی دوسری تعمیر کا ہے ۔(تذکرہ ساداتِ رضویہ ص١٦تا ١٨) رضوی صاحب لکھتے ہیں : ''اس زمانے کی علمی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس بات کا پیشِ نظر رہنا نہایت ضروری ہے جس کے بغیر تاریخ کا کوئی طالب علم حقیقت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ۔وہ یہ ہے کہ اس دور میں علم آج کل کی طرح مدارس کے احاطے اور دیواروں کی قیدوبند میں مقید اور محدود نہ تھا، مدارس کے لیے مستقل عمارتیں بنانے کے بجائے اس زمانے میں زیادہ تر یہ کام مسجدوں اور خانقاہوں کے حجروں، علماء کے مکانات اور امراء کی ڈیوڑھیوں سے لیا جاتا تھا ۔تعلیم مفت ہوتی تھی غریب طلبہ کے کھانے، کپڑے اور لکھنے پڑھنے کے لیے کتابیں وغیرہ بغیر کسی معاوضہ کے مہیا کی جاتی تھیں۔ علماء کے علاوہ امراء بھی عموماً صاحبِ علم وفضل ہوتے تھے اپنے کاموں کے علاوہ درس وتدریس بھی ان کی زندگی کا عزیز ترین مشغلہ ہوتا تھا۔ منتخب التواریخ میں بدایونی نے لکھا ہے کہ : ''میرفتح اللہ شیرازی جواکبر کے عہد میں وزارت پر فائز تھا وقتاًفوقتاً طلبہ کو درس دیتا رہتا تھا۔''(منتخب التواریخ بدایونی ذکر میر فتح اللہ شیرازی) عربی صرف کی مشہور کتاب ''علم الصیغہ'' اور'' تاریخ حبیب اللہ ''کے مصنف مفتی عنایت احمد (وفات١٢٧٩ھ/١٨٦٢ئ) منصف کے عہدہ پر فائز تھے عدالت میں بھی شاگردوں کا مجمع ساتھ رکھتے تھے دورانِ مقدمات جہاں فرصت ملتی درس شروع ہو جاتا تھا ۔(استاذ العلماء ص٥ مطبوعہ دارالمنصفین اعظم گڑھ) حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ساری عمر مطابع میں تصحیح کتب کا کام کرتے رہے مگر اسی کے ساتھ درس وتدریس کی مجلس بھی گرم رہتی تھی (سوانح قاسمی ص٢٠و ٢١) ۔اب سے کچھ عرصہ تک ایسے علماء موجود تھے جنہوں نے گنگوہ کی خانقاہ قدوسی میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے علم حدیث کی تحصیل کی ہے۔(تاریخ دیوبند ص ٢٦٤و٢٦٥)