ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
نوٹ : یہ سند بہت بوسیدہ ہے، اس کے کاغذ پر سنہری پھول بنے ہوئے ہیں طول و عرض ٩١٢ انچ ہے ، جن مقامات پر حروف مٹ گئے ہیں ،وہاں نقطے لگا دئیے گئے ہیں ۔) بارہویں صدی ہجری کے اواخر میں خانقاہ کو ایک زبردست حادثہ پیش آیا جس میں خانقاہ کی چہار دیواری اور مسجد بھی منہدم ہوگئی۔ ہوا یہ کہ ١١٨٩ھ/١٧٧٥ء میں جو مغل سلطنت کے زوال اور طوائف الملوکی کا زمانہ تھا دہلی کی مرکزی حکومت اتنی کمزور ہو گئی تھی کہ ملک میں امن وامان قائم رکھنے کی صلاحیت بھی اس سے رخصت ہوچکی تھی اس وقت شمالی ہند میں سکھوں کی تاخت وتاراج اور لوٹ مار اپنے شباب پر تھی ۔سکھوں کے ایک بڑے گروہ نے جوایک لاکھ سوار پیادوں پر مشتمل تھا دیوبند پر قزاقانہ حملہ کیا ، لوٹ مار کے دوران میں جن لوگوں نے مزاحمت کی سکھوں نے قابو پاکر اُن کے مکانوں کولوٹ کر آگ لگا دی ، اس حادثے میں دیوبند کے کئی محلے جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ،خانقاہ کے ساتھ بھی یہی تباہی پیش آئی ،چونکہ خانقاہ دیوبند کی آبادی سے باہر ایک کھلے مقام پر واقع تھی اور حفاظت کے وہ ذرائع جو شہر میں حاصل تھے یہاں موجود نہ تھے اس لیے لوٹ مار کرنے والوں نے یہاں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی ، اس حادثے میں خانقاہ اس طرح تباہ و برباد ہوئی کہ بعد میں پھر اس کی تلافی نہ ہوسکی ۔ ایک یاد داشت میں مرقوم ہے کہ : ''٩ربیع الاول ١١٨٩ھ /١٧٧٥ء کو سکھوں کے ایک لاکھ سوارپیادوں نے دیوبند پر حملہ کیا، ہماری آبادی (خانقاہ) کا محاصرہ کرکے ہمارے مکانوں کو لوٹ کر آگ لگادی ،انھوں نے ہمارے گھروں میں نقد ، زیوراور برتن وغیرہ کوئی چیز نہیں چھوڑی ،یہ لوگ ١٨دن تک یہاں ٹھہرے اور نہایت اطمینان کے ساتھ انھوں نے ہمارے گھروں کولوٹا اور پھر نذرِ آتش کردیا، ان غارت گروں کے چلے جانے کے بعد ہم اپنے سوختہ گھروں میں داخل ہوئے، اپنے مقتولوں کی تجہیزو تکفین کی ، شاہی فرامین اور دستاویزات میں سے کوئی چیزباقی نہیں رہی سب جل کرراکھ بن گئی تھیں''۔ ٧ تاسحروہ بھی نہ چھوڑی تونے اے بادِ صبا یادگارِ رونقِ محفل تھی پروانے کی خاک دیوبند کی تاریخ میں یہ وہ قیامت خیز سانحہ ہے جس نے ڈیڑھ سو سال کی شمع علم کو ایسا بجھایا کہ آج اس کے آثار ونقوش ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے ایسا مٹا چمن کہ نشاں تک نہیں رہا دیوبند پر سکھوں کے اس حملہ کی پوری تفصیل تاریخ دیوبند میں درج ہے۔ حضرت سیّدمحمد ابراہیم رحمة اللہ علیہ کی خانقاہ دیوبند کی آبادی سے باہر جنوب کی جانب دیوی کنڈ کے قریب واقع تھی ،خانقاہ کی عمارت کا کوئی حصہ اب موجود نہیں ٧ تفصیل کے لیے دیکھئے تاریخ دیوبند ص١٧٩ـ١٨٢