ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
مسجدوں میں اکثرو بیشتر ایسی عمارتیں بنائی جاتی تھیں جو طلبہ کے درس وتدریس اور قیام کے کام میں آسکیں چنانچہ اس زمانے کی اکثر مساجد کے صحنوں کے اطراف میں حجروں اور دالانوں کا وسیع سلسلہ نظر آتاہے۔ دہلی میں مسجد فتحپوری جو شاہجہان کے عہد میں تعمیر ہوئی تھی اسی طرز کی قدیم یادگا رہے مسجد فتحپوری کے وسیع صحن کے گرد جو حجرے اور دالان بنے ہوئے ہیں وہ آج بھی اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں ۔جون پورکی مسجد اٹالہ کے صحن کے اطراف میں درس وتدریس کے لیے دالان بنائے گئے، دیوبند کی جامع مسجد میں بھی اسی طرزپر حجرے اور دالان بنے ہوئے ہیں۔ جب تک دارالعلوم کی موجودہ عمارت تیار نہیں ہوئی مسجد ہی سے مدرسہ کاکام بھی لیا جاتا تھا۔ عموماً ہمارے بڑے بڑے مدرسوں کا آغاز مسجدوں ہی سے ہوا ہے۔ جامع ازہر (مصر )قاہرہ ،جامع قزوین (مراکش کے شہر فاس میں ) اور جامع زیتونہ اس کی مثالیں ہیں ۔جامع قزوین ازہر سے بھی پرانی ہے کچھ عرصہ قبل مراکش کے بادشاہ حسن الثانی نے اس کے گیارہ سوسال پورے ہونے کا جشن بڑی دھوم دھام سے منایا تھا۔یہ صرف مسجدیں ہی نہ تھیں بلکہ اپنے وقت کی عظیم درسگاہیں بھی تھیں جن میں تعلیم کے علاوہ قیام اور خوردونوش کی تمام سہولتیں طالبانِ علم کو حاصل ہوتی تھیں ۔غرض کہ اس طرح برطانوی عہد سے پہلے ملک میں مدارس کا جال بچھا ہواتھا اور گھرگھر علم کا چرچا رہتا تھا۔ مسجدیں اور خانقاہیں اہلِ علم کی آوازوں سے ہر وقت گونجتی رہتی تھیںیہی وجہ تھی کہ مدارس کے لیے مستقل عمارتیں بنانے کا رواج اُس زمانے میں بہت کم تھا۔ آخری زمانہ میں دیوبند میں قدیم طرز کے صرف تین مدرسوں کا پتہ چلتا ہے ایک مدرسہ مولوی مہتاب علی کا تھا حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی کی عربی تعلیم کا آغاز اسی مکتب سے ہواتھا۔ دوسرا میاں جی امام علی کا تھا جوامام بخش صہبائی کے شاگرد تھے۔ اور تیسرے مدرسہ میں جو بحال سنگھ مصّررئیس دیوبند کے مکان پر جاری تھا۔ دیوبند کے مشہور بزرگ میاں جی منّے شاہ صاحب پڑھاتے تھے ان مدرسوں میں ہندواورمسلمان بچے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے نصابِ تعلیم میں فارسی زبان اور حساب داخل تھا۔ اگرچہ ان مدارس کی تعلیم آج کل کی طرح باضابطہ نہ تھی مگر استادوں کا فیضان ِنظر شاگردوں میں غیر معمولی صلاحیت ،علمی پختگی اور اخلاقی درستگی پیدا کردیتا تھا جن لوگوں کوان مدرسوں کے پڑھے ہوئے اشخاص سے واسطہ پڑا ہے وہ اس کا بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت مسلمانوں کے نقشِ قدم پر قائم ہوئی تھی اس کی حکومت نے سلطنتِ مغلیہ کی جگہ پائی تھی۔اٹھارویں صدی کے اواخر میں کمپنی کی حکومت نے کلکتہ اور دہلی میں مشرقی علوم کے ادارے قائم کیے، عام شہروں اور قصبات میں مڈل اسکول جاری کیے گئے ان اداروں میں جو نصاب جاری کیا گیا اس کا مقصد کمپنی کی حکومت کے لیے کارکن پیدا کرناتھا۔ (تاریخ دیوبند از ص ٢٦٥تا٢٦٨ملخصاً) (جاری ہے) ٭٭٭