ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
محمد پورعرف داکولی درزمینداری سیادت مآب سیّد وجیہہ الدین وسیّدنظام الدین ٥ مقرراست می باید کہ دراستمالت وپرداخت مزارعان موضع مذکوردریں باب تاکید اکید دانند ،تحریر ہفت دہم شہرذیقعد ہ ٥(١١٢٨ھ )پروانے پر سیدنجم علی خاں کی مہر ثبت ہے۔ محمد شاہ بادشاہ (١١٣١ھ/ ١٧١٨ئ۔١١٦١ھ/١٧٤٧ئ) کے عہد میں سیّد ابرار اللہ بن فضل اللہ کو دیوبند اور اس کے اطراف وجوانب کا قاضی مقرر کیا گیا۔ ان کے فرائض میں فصلِ قضایا (مقدمات اور نکاح خوانی کے علاوہ جمعہ کی خطابت وامامت بھی شامل تھی، خاندان کے وہ افراد جن سے محکمہ قضاء متعلق تھا دیوبند سے ترکِ وطن کرکے قریب کے ایک قصبہ رامپور (ضلع سہارنپور)چلے گئے اور وہیں اب تک آباد ہیں۔ محمد شاہ کا وہ فرمان جس کی رو سے سیّد ابرار اللہ کو محکمہ قضا سپرد کیا گیا ، اس کی نقل یہ ہے : نقل سند قضاء ت محمد شاہ بادشاہ مہری خان ترخان عن الدیوان الصدرة العالیة العلیة گماشتہائے جاگیرداران وکروڑیان وجمہورسکنہ پرگنہ د یوبند سرکار سہارنپورصوبہ دارالخلافہ شاہ جہاں آباد را اعلام آنکہ حسب الحکم جہاں مطاع آفتاب شعاع گردوں ارتعاع منصب قضائے پرگنہ مسطور معہ سواد قصبہ ودہات متعلقہ است سیّد ابرار اللہ بن فضل اللہ مقررومفوض گشتہ فرمان والا شان درست می شود باید کہ برطبق حکم فیض شیم .... مشار الیہ قاضی آنجادانستہ دست قصدی مومیٰ الیہ درامورِ متعلقہ الخدمت مستقل دانند ودیگرے راسہیم وشریک اوندانندو....... کہ بمہر اد شمارندکہ کما۔ینبغی بلوازم منصب مزبورقیام نمودہ درفصل قضایا وخصومات واجرائے حدودوتعزیرات واقامت جمعہ و...... تجاویز......فیصلہ.......والنکاح من الدولی وقسمت تبرکات وحفظِ اموال غیب واہتمام وتعین اوصاد نصب قوام مساعی موفورہ .......دریں باب مرعی داشتہ حسب المسطوربعمل آرند ۔بتاریخ غرہ شہرذی الحجہ ٢٣ جلوس والاقلمی شد رص(مطابق ١١٥٤ھ/٤٢۔١٧٤١ئ) بتاریخ ذی الحجہ ٢٣جلوس والا داخل سیاہہ شد بتاریخ غرہ شہر ذی حجہ ٢٣ جلوس والا نقل بدفتر دیوان الصدارت رسید معہ خرچہ دلیل ٦ ٥ سیّد نظام الدین نے ٢٥ شوال ١٢٥١ھ کو وفات پائی ٦ فرامین سلاطین مرتبہ مولوی بشیرالدین مطبوعہ دلی پرنٹنگ پریس دہلی ١٣٤٤ھ ص ١٥٣ و ١٥٤