ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
مطابق ١٠٩٣ھ/١٦٨١ء میں جاری ہوا ہے ،اسی طرح کا ایک دوسرا پروانہ امرائے عالمگیری میں محمد عرب ابن خسرومحمد کی مہرودستخط سے ١١شعبان المعظم ٣٠ جلوس مطابق ١٠٩٧ھ/١٦٨٥ء کو جاری ہوا ہے ۔یہ دونوں پروانے اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ (تذکرہ سادات ص١٥و١٦) جیسا کہ عرض کیاجا چکا ہے اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ جولوگ علم اور دین کی خدمات محض لوجہ اللہ انجام دیتے تھے حکومت اُن کو مالی امداد بہم پہنچاتی تھی تاکہ وہ فراغت اور سکون خاطر کے ساتھ دینی خدمات انجام دینے میں مشغول رہیں۔ ایسے علماء ومشائخ جو متوکلانہ طورپر تمام عالم سے بے نیاز ہو کر شبانہ روز درس وتدریس اور رشدوہدایت میں اپنے آپ کو مصروف رکھتے تھے مغلیہ عہدِ حکومت میں اُن کے خوردونوش کے لیے حسبِ ضرورت جو زمین دی جاتی تھی سرکاری مال گذاری سے مستثنیٰ ہوئی تھی ، اُسے''مدد معاش'' کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا جن وجوہ سے'' مدد معاش''دی جاتی تھی اس کے لیے ایک مستقل محکمہ قائم تھا۔ نہایت راست باز اور دیانتدار اشخاص اس محمکے کے لیے منتخب کیے جاتے تھے، اُن کے لیے ضروری تھا کہ ایسے لوگوں کے حالات سے باخبر رہیں جن کے لیے ''مددمعاش'' ضروری ہو ۔اس محکمے کا افسراعلیٰ ''صدر''کہلاتا تھا ،قاضی اور میرعدل اس کے ماتحت ہوتے تھے ،صدرکے کاموں میں مدد دینے کے لیے ایک عہدہ''دیوانِ سعادت''کا بھی ہوتا تھا ،تفصیل کے لیے دیکھئے آئینِ اکبری مصنفہ شیخ ابوالفضل آئینِ سبورغال۔ فرامینِ شاہی اور پروانہ جات میں ان حضرات کی نسبت یہ الفاظ لکھے گئے ہیں :''غفران پناہ''،''مشیخت پناہ''،''حقائق ومعارف آگاہ'' ان الفاظ سے ان حضرات کے علم وفضل، زہدوتقوٰی ،شرف ومجد،قدرومنزلت اور ان کی علمی ودینی خدمات کافی الجملہ انداز ہ کیا جاسکتا ہے ،آخری دور میں خاندان کے ایک بزرگ سیّد نورالحق کا وظیفہ نواب نجیب الدولہ (وفات ١١٨٤ھ/١٧٧٠ئ) کی سرکار سے جاری تھا۔ حضرت جدِ اعلیٰ کے زمانہ سے لے کر ١١٨٩ھ/١٧٧٥ء کی آتشزدگی تک خانقاہ میں اباًعن جدّ ٍ درس وتدریس اور بیعت وارشاد کا سلسلہ جاری رہا ۔اس عہد کی بعض علمی یادگاروں میں سیّد وجیہہ الدین اور سیّد محمد صابر کے لکھے ہوئے چند فتاوٰی ہیں جو فرائض (تقسیم ترکہ )سے متعلق ہیں ،سیّدمحمد صابر کے فتوٰی پر ١٢٤٦ھ اورسیّد وجیہہ الدین کے فتوٰی پر ١٢٥١ھ کی مہرثبت ہے۔ جب آتشزدگی میں خانقاہ تباہ وبرباد ہوئی (اس کا ذکر آگے آتا ہے )تو سارا نظام درہم برہم ہو گیا ، خاندانی روایات اور بعض ان مختلف کاغذات سے جو زمانے کے دستبرد سے محفوظ رہ گئے ہیں اس زمانے کے کسی قدر حالات کا پتہ چلتا ہے۔ عہد فرخ سیر( ١١٢٤ھ/١٧١٢ئ۔١١٣١ھ/١٧١٨ء )کے ایک پروانے میں مرقوم ہے : متصدّیان مہماتِ حال واستقبال پر گنہ ملہی پور سرکار سہارنپور مضاف صوبہ دار دارالخلافہ بدانند موضع