ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
ہے۔ ان مصارف کا کسی قدر حصہ فیس کی شکل میں طلباء سے وصول کیا جاتا ہے اور کچھ مصارف حکومت اُٹھاتی ہے مگر قدیم طرز اس کے برعکس تھا، اس طریق ِتعلیم میں علماء وفضلاء بطورخود کسی معاوضے کے بغیر طلباء کو تعلیم دیتے تھے حکومت کے فرائض میں یہ بات داخل تھی کہ ایسے لوگوں سے باخبر رہے اور ان کو مالی مدد بہم پہنچانے کا بندوبست کرے۔طلباء کی تعلیم اور اُن کے قیام کا کام بالعموم مسجدوں اور خانقاہوں کے حجروں سے لیا جاتا تھا۔ دیوبند میں یہ خانقاہ دینی علوم کی اولین شعاع تھی جس کو گیارہویں صدی کے اوائل میں حضرت سیّد محمد ابراہیم قدس سرہ کے مقدس ہاتھوں نے روشن کیا تھا۔ مشہور روایت ہے کہ حضرت سیّداحمد شہید (١٢٤٦ھ/١٨٣١ئ)جب دیوبند تشریف لائے ٤ تو فرمایا ''یہاں سے علم کی بو آتی ہے''۔ سیّد احمد شہید کے اس ارشاد کودارالعلوم کی نسبت بطور ِمکاشفہ پیش گوئی کہا جاتا ہے۔ مگر درحقیقت حضرت شہید نے جس بوکا ذکر کیا تھا وہ اسی گلدستۂ علم کی بوتھی ، جو سیّد سہید کی تشریف آوری کے قریبی زمانے تک موجود تھا ،تحریکِ دارالعلوم کے پس منظر کا اگر غائر نظر سے مطالعہ کیا جائے تو من جملہ دوسرے اسباب کے قیام دارالعلوم کا ایک بڑا سبب یہ خانقاہ اور اس کا مدرسہ بھی ہے۔ چنانچہ حضرت بندگی محمد اسمٰعیل کے فرزند محمد عارف (وفات١٠٩٣ئ)کے نام عہدِ عالمگیری میں جوپروانہ صادر ہوا اُس میں مرقوم ہے : ''متصدیان مہمات حال واستقبال پرگنہ دیوبند بدانند کہ چوں مولذی ہفتادویک بیگہ نہ بسوہ زمین بگز الہی منجملہ پا نصد بیگہ بموجب اسنادوحکام وبموجب پروانہ بمہر ایں جانب باسم غفران پناہ شیخ محمد عارف ولد مغفرت پناہ بندگی حضرت شیخ محمد اسمٰعیل ازقدیم الایام بجہت خرچ خانقاہ ازپرگنہ مذکورہ مقرراست معارف آگاہ شیخ محمد عارف مرحوم ودیعت حیات سپرددریں ولد شیخ وجیہہ الدین پسر شیخ مرحوم بصلاح وتقوٰی آراستہ لیاقت تمام داردبجائے پدر خود خانقاہ بتدریس وتذکیرباجماعت طالب علمان وفقراء وصوفیان مشغول است او خرچ خانقاہ فی سبیل اللہ مصروف ست بنابراں تصدق فرق بارک بندگان حضرت سلیمان منزلت زمین وزمان باعث امن الامان........موازی مسطوربدستور سابق از محل قدیم باسم پسر شیخ مرحوم مذکور ،بموجب خمس شرط قبض وتصرف آں مقررمسلم داشتہ شدکہ حاصلات آں رافصل بفصل وسال بسال صرف معیشت طالب علماں وفقراء و صوفیان خانقاہ خود نمودہ بدعا گوئے دوام ودولت ابدا شتغال می نمودہ باشد ۔ تحریر فی التاریخ ہفتدہم شہر شوال المکرم ٢٦ھ۔ یہ پروانہ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں غضنفرخاں فوجدار دوآبہ کی مہر سے ٢٧شوال ٢٦جلوس عالمگیری ٤ تاریخ دیوبند ص٢٠٤تا٢١٣