ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2004 |
¾اكستان Ù |
|
دریں ولاشیخ وجیہہ الدین پسر غفران پناہ معارف آگاہ شیخ محمد عارف ،ولد مغفرت پناہ شیخ محمد اسمٰعیل کہ بصلاح وتقوٰی آراستہ لیاقت تمام دارد وبجائے پدر خود در خانقاہ بتدریس وتذکیر باجماعت طالب علماں وفقراء صوفیاء مشغول است۔ ٣ شیخ وجیہہ الدین بن غفران پناہ معارف آگاہ شیخ محمد عارف بن مغفرت پناہ بندگی شیخ محمد اسمٰعیل جو صلاح وتقوٰی سے آراستہ اور صاحب فضل وکمال ہیں وہ اپنے والد کی جگہ پر خانقاہ میں طلباء اور صوفیاء کی تعلیم وتربیت میں مشغول ہیں۔ سیّد محمد عارف نے شعبان ١١٥٠ھ بعہد محمد شاہ وفات پائی ۔اسی طرح کاایک دوسرا فرمان امرائے عالمگیری میں محمد عرب بن محمد خسروکی جانب سے ١٠٩٧ھ ٣٠ جلوس عالمگیری میں سیّد محمد صابر بن محمد عارف کے نام صادر ہوا ہے ۔یہ سب حضرات اپنے جدّ ِ بزرگوار کے مزار کے احاطے میں مدفون ہیں ۔ رحمة اللّٰہ فی مقابرھم من کبار الٰی اصاغرھم عام خیال یہ ہے کہ دیوبند میں دینی علوم کا یہ چرچا دارالعلوم کے قیام ١٢٨٣ھ/١٨٦٦ء سے وابستہ ہے۔ مگر عہدِ عالمگیر کے ان پروانوں سے واضح ہوتا ہے کہ سیّد صاحب کی خانقاہ میں اُس دور کی روش کے مطابق بیعت وارشاد کے ساتھ ساتھ تعلیم وتدریس بھی جاری تھی ۔خانقاہ میں طالبان ِعلم اور درویش دونوں رہتے تھے ،جن کو خانقاہ سے کھانا ملتا تھا۔ تعلیم کی ترویج واشاعت کے لیے اسلامی عہدِ حکومت میں یہ طریقہ رائج تھا کہ ملک میں جہاں جہاں علماء و معلمین رہتے تھے ان کے لیے شاہی خزانے سے ''مدد معاش''مقرر کردی جاتی تھی تاکہ علماء فراغتِ خاطر کے ساتھ ساتھ درس وتدریس میں مشغول رہ سکیں ۔طلباء ومتعلمین کے لیے اوقاف عام تھے جن سے اُن کی تعلیم اور خوردونوش وغیرہ کے مصارف پورے کیے جاتے تھے۔ موجودہ اصطلاح کے مطابق یہ ایک طرح کے وظائف تھے، اس طریقے کے باعث تعلیم مفت ،عام اور سہل الحصول ہوگئی تھی۔ اسی طرح جو مشائخ و صوفیا ء اپنے اوقات کو رُشد وہدایت اور روحانی فلاح وتربیت میں مصروف رکھتے تھے حکومت کے لیے ضروری تھا کہ ایسے باخدا لوگوں کے لیے بھی ''مدد معاش''کا معقول انتظام کرے۔ اشاعتِ تعلیم کا موجودہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے مدارس کے لیے عمارتیں بنائی جاتی ہیں ۔ بعد ازاں اُن کے لیے استاد اور فرنیچر مہیا کیا جاتا ٣ پہلا فرمان ٩شعبان ٢٤جلوس عالمگیری میں غضنفر خاں صوبہ دار دوآبہ کے دستخط سے، اور دوسرا ٣٠جلوس میں محمد عرب کے دستخط سے جاری ہوا ہے ،یہ دونوں فرمان خاندانی کاغذات میں موجود ہیں۔ (تذکرۂ سادات رضویہ ص١٣ و ١٤)