ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2003 |
¾اكستان Ù |
|
زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان امن وسلامتی میں رہیں اس کی مثال ہم مشرکین مکہ کی انتہائی زیادتیوں سے بھی لے سکتے ہیں کہ کفار ِ مکہ کی شدید زیادتیوں اور ظلم وتشدد کے باوجود فتح مکہ کے وقت ان کی عام معافی اور امان دینے کا جس قدر بلند حوصلہ اعلان فرمایا دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی ہے۔ حجة الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات ومنٰی میں حضرت محمد ۖ نے مسلمانوں کو جو خطبہ دیا اس میں یہ بھی فرمایا : ''اے لوگو! قیامت تک تمہارے خون تمہاری عزت اور تمہارے مال کا آپس میں احترام کرنا ایسا ہی ہے جیساکہ آج کے دن اور اس شہر اور اس مہینے کا احترام واجب ہے''۔ جب ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالتے ہیں اور اس کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیںتو واضح ہو جا تا ہے کہ اسلام ایسا دین ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اس نے اتحاد و اتفاق کا وہی تصور پیش کیا ہے جو قانونِ فطرت کے عین مطابق ہے مذہب اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانی زندگی کو ایک منظم اور بار ربط نظام عطا کیاہے وہ انسان ہی کے حقوق نہیں بلکہ ہر مخلوق کی نگرانی کرتا ہے ایک بھائی کو دوسرے بھائی کی حق تلفی نہیں کرنے دیتا یہ ایک ایسا معتدل مذہب ہے جس پر عمل کرکے انسانی معاشرے میںامن و سکون اور زندگی میںتوازن قائم رکھا جا سکتا ہے ۔ اسلام محض ایک عقیدہ ہی نہیں ہے اور نہ صرف اجتماعی اور انفرادی زندگی کو سنوارنے اور نکھارنے تک محدود ہے بلکہ یہ ایک سچا اور دائمی مذہب ہے۔یہ مذہب انسانی زندگی کو ایک مکمل اور انصاف والا نظام پیش کرتا ہے اس کے بغیر نہ اخلاقی پابندیاں قائم رہ سکتی ہیں اور نہ دل ودماغ کو شائستگی حاصل ہو سکتی ہے۔ اسلام اس بات کی سخت مخالفت کرتا ہے کہ زبردستی دوسروں پر حکومت کی جائے یا مذہب مسلط کیا جائے وہ صرف ظلم و زیادتی کے خلاف جہاد کرنے اور ہتھیار استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اگرہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ پہلی اور دوسری جنگ یعنی غزوہ بدر اور احد خود نہیں لڑی تھی بلکہ ان کو جنگ کرنے پر مجبور کیا گیا تھا تمام مسلمان اپنی عزت ،مال اور جان کی حفاظت کے لیے لڑے تھے۔ آنحضرت ۖ نے کفار مکہ سے جب کبھی جنگ کی تووہ ظلم وزیادتی کو ختم کرنے اور امن وامان قائم کرنے کے لیے ہوئی تھی ۔مسلمانوں پر بھی یہ فرض ہے کہ جب دنیا میں امن قائم کرنا ہوتو وہ اس کے لیے انہی کوششوں کو جاری رکھے۔ آج دنیا پر نظرڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ نفسا نفسی کا عالم ہے پوری دنیا میں مسلمانوں کو ظلم وزیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ہر اسلامی ملک کو اپنی ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے آج دنیا کے ہر خطے میں امن وامان میسر نہیں جس کی وجہ سے دنیا کی دوسری راحتیں بھی میسر نہیں ہیں ۔