ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2003 |
¾اكستان Ù |
|
بیعت کے سوال پر ارشاد ہوا کہ یہاں کیا رکھا ہے ذرا تھانہ بھون تو چلیے ۔یہاں تو نیت ہی یہی تھی ایک روز سہ پہر کو یہ مختصر سا قافلہ چل کھڑا ہوا گویا ع
مومن چلا ہے کعبہ کو ایک پارسا کے ساتھ
البتہ یہاں اپنے ساتھ پارسا ایک نہیں دو تھے اور سفر ''کعبہ'' کا نہیں'' کعبہ مقصود'' کا تھا ایسی منزل کے لیے رہبر بھی اس سے بہتر اور کون مل سکتا تھا اللہ اللہ ! ایسے سفر کی سعادت ہی کب نصیب میں معلوم ہوتی
ہے آرزو کہ ابروے پُرخم کو دیکھئے اس حوصلہ کو دیکھئے اور ہم کو دیکھئے
آمدم برسرِ مطلب ۔کیا ہرج ہے اگر یہ پُرانا بہت پُرانا فرسودہ فقرہ ایک بار پھر نئی زبانوں پر چڑھ جائے ۔جملہ معترضہ بڑا طویل ہو گیا لیکن لا طائل نہیں۔اب ناظرین کرام تکلیف اُٹھا کر ایک بار پھر تھانہ بھون اسٹیشن پر پہنچیں۔تاریخ ٣٠جون ١٩٢٨ء وقت کوئی ساڑھے نو شب قافلہ مختصر سا تین آدمیوں کا اسٹیشن پر اُترا تین میں سے ایک خود نامور لیڈر اور شیخ الحدیث باقی دومیں سے ایک عالم دوسرا عامی، اسٹیشن اس وقت تک ٹائون کا کھلانہ تھاوہی پرانا بڑا اسٹیشن تھا جو اب عوام کی زبان پر جلا ل آباد کے نام سے مشہور ہے یہاں سے قصبہ تھا نہ بھون کا فاصلہ کوئی تین میل ہوگا تانگہ کرایہ پر کیا او ر سُنسان راستوں سے گزرتے کوئی آدھ گھنٹہ میں قصبہ کے اند ر پہنچ گئے۔ جذبات میں جب بجائے '' جَزر ''کے ''مد''ہواور خیالات میں تلاطم تو یہی آدھ گھنٹہ کئی گھنٹوں کامعلوم ہونے لگتا ہے عقیدت تازہ بھی تھی اور تیز بھی ۔تخیل خوب خوب نقشے پیش کرتا رہا۔تانگہ خانقاہ امدادیہ ٤ کے دروازہ پر رُکا اور کرایہ مولانا حسین احمد صاحب نے دیا ۔سہارنپور اسٹیشن پر کھانا بھی تو ان ہی نے مسلم ہوٹل میں لے جا کر کھلایا تھا اور دیو بند اسٹیشن پر ٹکٹ بھی تو وہی جھپٹ کر لے آتے تھے اور ہم دونوں سَن میں اُن سے کہیں چھوٹے منہ دیکھتے ہی رہ گئے تھے۔ جس سفر میں وہ ساتھ ہوں چھوٹی اور بڑی ہر قسم کی خدمت گزاری میں کون اُن سے پیش پا سکتا ہے ؟
اس کے بعد وہ تحریر فرماتے ہیں :
(نماز فجرِ حضرت نے خود ہی پڑھائی ) نماز ختم ہوئی سلام پھیرا دعاء مانگ کر جوں ہی حضرت اُٹھتے ہیں نگاہ پہلی صف میں مولانا حسین احمد صاحب پر پڑ گئی ان کی طرف خودہی بڑے تپاک سے بڑھے اور بڑے التفات سے ملے ۔لوگ
٤ مولانا عبدالماجد صاحب نے اس مقام پر لکھا ہے کہ'' امدادیہ''کو یہاں کوئی لفظ کو آپریٹیو (co-operarative)کا ترجمہ نہ سمجھ لیں (جیسا کہ آگرہ کے ایک مشہور شاعر چند سال ہوئے یہی سمجھتے تھے )حکیم الامت کے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کا وطن بھی یہی قصبہ تھا یہیں ان کا حجرہ او ر مسکن تھا حجرہ اب تک اسی حالت پر قائم ہے او رصحن ،مسجد ،عمارت اور خانقاہ میں بہت زیادہ اضافہ کرکے مجموعہ کا نام ان ہی کے اسم مبارک پر''خانقاہ امدادیہ'' رکھ دیا گیا ہے۔(ص١٤)