ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
١٨٩٨ ۔١٢ ۔٣١ )کمشنر لاہور سے درخواسست کی گئی کہ وہ مرزا کو اس بارے میں مطلع کردے ۔حکومت پنجاب ۔محکمہ داخلہ کی روداد ۔فائل نمبر ٣٥ ۔اکتوبر ١٨٩٨ ۔انڈیا آفس لائبریری لندن ) عبدالرحیم درد مرزا صاحب کی اس سیاسی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں : ''اس تجویز پر عمل درآمد حکومت کے اپنے لیے مفید تھا ۔سیاسی طورپر گمراہ کن عناصر لوگوں کو حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لیے مذہبی جھگڑوں کا فائدہ اُٹھا سکتے تھے ۔اسی بات کا احساس کرکے حکومت نے ١٨٩٧ ء میں بغاوت ایکٹ منظور کیا تھا مگر اس کے نفاذ کے باوجود ملک قانونی پابندی سے پھسل کر بے اطمینانی کی طرف جا رہا تھا ۔چونکہ ہندوستان مستقل طورپر ایک مذہبی سرزمین رہی ہے اور اس کے لوگ سیاسی مسائل کے بجائے مذہبی مسائل پر بہت جلدی اُ ٹھ کھڑے ہوتے ہیں لہٰذا اس قانون سے بھی در حقیقت حکومت کو مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ ١٨٩٧ ء کے بغاوت ایکٹ سے بھی مذہبی لڑائیوں کی روک تھام نہ ہو سکی او ر جب اس کی معیاد گزر گئی تو حکومت نے ایسی کسی دفعہ کی کوئی پروا نہ کی ۔'' ١ مرزا صاحب نے مخالفین کے خلاف اپنی گھٹیا اور گندی زبان کے استعمال کی دلچسپ توجیہ پیش کی جسے آپ متواترعیسائیت اور پادریوں کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔آپ نے اپنے عیسائیت مخالف طرز عمل اور حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات پر رکیک حملوں کا یہ جواز پیش کیا کہ آپ کی غیر شائستہ تحریریں سر پھرے مسلمانوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تھیں ۔وہ ان تحقیر آمیز اور سخت تحریروں کو پڑھ کر مطمئن ہو گئے اور اپنے انتقام آوررویہ سے باز آگئے جو بصورت دیگر ملکی امن کے لیے پُر خطر ثابت ہو سکتا تھا دوسرے آپ نے یہ موقف اختیار کیا کہ عیسائیت مخالف تحریریں مسلمان ممالک میں سیاسی اہمیت کی حامل قرار دی جاتی ہیں ،ایسی تحریری پڑھ کر مسلمان برطانوی حکومت کی مذہبی حکمت عملی کو پسند کرتے ہیں اور ان کے لیے محبت بھرے جذبات رکھتے ہیں ۔ ٢ ان کا یہ خیال تھا کہ برطانوی مسلمانوں پر مائل بہ کرم ہیں اور ان کے اقتدار سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ۔ اس مقصد کو پیش نظر رکھ کر بھاری مقدار میں قادیانی مذہبی لٹریچر مسلمان ممالک میں بھجوایا گیا تاکہ سامراجی پروپیگنڈہ کیا جا سکے۔مرزا صاحب یہ بات کہنے کی جرأت نہ کرسکے کہ عیسائی تبلیغی مراکز کی جڑیں سامراجی توسیع پسندی میں پیوست ہیں اور جب تک سامراج برداشت کرے ، اس کے مذہبی دُم چھلے قائم رہ سکتے ہیں اور جب تک سامراج زندہ ہے دجال نہیں The life Of Ahmad,Lahore,1948,P.433 1. A.R.Dard,