ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
اكستان |
|
جس چیز میں چکنائی ہو اور جو نچڑ نہ سکے جیسے گھی ،تیل ،دودھ وغیرہ اس سے دھونا درست نہیں ۔اس کے استعمال کے باوجود وہ چیز ناپاک رہے گی ۔ اگر نجاست ایسی ہو کہ نجاست چُھوٹ جانے اور سادہ ٹھنڈے پانی کے ساتھ کئی دفعہ کے دھونے کے باوجود اس کا اثر یعنی رنگ اوربو یا تو سِرے سے دورنہ ہوتا ہو یا صابن وغیرہ کے استعمال سے ہی دور ہوتا ہو ویسے نہ ہوتا ہوتو صابن کا استعمال ضروری نہیں ۔ اور اگر سادہ پانی کے استعمال سے ہی نجاست کا اثر بھی دور ہو جاتا ہے تو اتنا دھوئے کہ نجاست بھی چھوٹ جا ئے اوردھبہ بھی جاتا رہے۔ تنبیہہ: اگر نجاست پہلی ہی دفعہ کے دھونے میں چُھوٹ جائے تودو مرتبہ اور دھولینا بہتر ہے ۔اگر دو مرتبہ میں چُھوٹی تو ایک مرتبہ اور دھوئے ۔غرض یہ کہ تین بار پورے کرلینا بہترہے۔ (٢) پونچھنا : آئینہ کا شیشہ ،چھری ، چاقو ، چاندی ،سونے کے زیورات ،پیتل ، تانبے،لوہے، گلٹ، شیشے وغیرہ کی چیزیں اگر نجس ہوجائیں توخوب پونچھ لینے اور رگڑ دینے یا مٹی سے مانجھ ڈالنے سے پاک ہو جاتی ہیں ۔لیکن اگر نقشین یا کھردری چیزیں ہوں تو دھوئے بغیر پاک نہ ہوں گی ۔ دھونے اور پونچھنے سے متعلق تفصیل : نجاست دو طرح کی ہوتی ہے ۔ (1) جو سوکھنے کے بعد بھی نظر آتی ہے یعنی گاڑھی نجاست جیسے پاخانہ اور خون ۔ (2) جو سوکھنے کے بعد نظر نہیں آتی یعنی پتلی نجاست جیسے پیشاب وغیرہ ۔ پھر جن چیزوں پر نجاست لگے ان کی تین قسمیں ہیں ۔ (١) وہ چیزیں جو نجاست کو بالکل بھی جذب نہیں کرتیں جیسے لوہے ،تانبے وغیرہ کے برتن اور ہر قسم کی دھات کے زیور ۔ (٢) وہ چیزیں جو قلیل نجاست کو جذب کرتی ہیں مثلاً جوتی ،چمڑے کا موزہ اور بدن وغیرہ۔ (٣) وہ چیزیں جو کثیر نجاست کو جذب کرتی ہیں جیسے کپڑے وغیرہ۔ (١) جو چیزیں نجاست کو بالکل جذب نہیں کرتیںمثلاً برتن زیور وغیرہ ۔