ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
کے بدلے چھ سو دینار (اشرفیاں) عطا کیں تو اپنی آنکھ کو ٹھنڈی رکھ پھر حضور ۖ نے بھی یہی الفاظ ارشاد فرمائے من عا ملنا ربح۔ ربیع کہتے ہیں جب میں سو کر اُٹھا تو اس تھیلی کو کھولا اس میں چھ سو اشرفیاں تھیں ۔ (رشفةالساوی) ٢
ایک حدیث شریف میں آتا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور اکرم ۖ کا ارشاد گرامی ہے کہ ''جب کوئی بیمار ہوتا ہے یا سفر میں جاتا ہے (اور اس کی بیماری یا سفر کی وجہ سے اس کے اورادو و ظائف رہ جاتے ہیں )تو اس کے نامۂ اعمال میں اُتنے اعمال کا ثواب لکھ دیا جاتاہے جو وہ حالتِ قیام اور تندرستی کے زمانہ میں کیا کرتا تھا '' ٣
اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حضور اکرم ۖ نے معتکف کے بارے میں فرمایا کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لیے نیکیوں کا سلسلہ تمام نیکی کرنے والوںکی مانند جاری رہتاہے'' ٤ مطلب (واللہ اعلم) یہ ہے کہ معتکف شخص اعتکاف کی وجہ سے جن جن اعمال سے رہ جاتاہے کہ اعتکاف سے پہلے تو وہ کرتا تھا اب اعتکاف کی وجہ سے نہیں کر سکتا مثلاً پہلے مریض کی عیادت ، فوت شدہ کی تعزیت ،حاجت مند کی ضرورت کے لیے جایا کرتا تھا اب نہیں جا سکتا تو اسے اعتکاف کے زمانہ میں ان اعمال کا ثواب بھی دے دیا جاتا ہے، بظاہر یہی لگتا ہے کہ اس اجرو ثواب کے ملنے میں جہاں اللہ کے فضل وکرم کا تعلق ہے وہیں اس بندہ کی نیت و ارادہ کا بھی دخل ہے۔
ایک نصرانی راہب کے ایمان لانے کا واقعہ :
''حضرت ابراہیم خواص کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ جنگل میں جارہا تھا راستہ میں ایک نصرانی راہب مجھے ملاجس کی کمر میں زُنَّار(پٹکہ یا دھاگہ وغیرہ جو کفر کی علامت کے طورپر کافرباندھتے ہیں)بندھ رہا تھا اُس نے میرے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی (کافرفقیر اکثر مسلمان فقراء کی خدمت میں رہتے چلے آئے ہیں )۔ میںنے ساتھ لے لیا، ساتھ دن تک ہم چلتے رہے (نہ کھانا نہ پینا ) ساتویں دن اُس نصرانی نے کہا اے محمدی کچھ اپنی فتوحات دکھاو( کئی دن ہو گئے کچھ کھایا نہیں) میں نے اللہ تعالی شانہ سے دعا کی کہ یا اللہ اس کافر کے سامنے مجھے ذلیل نہ فرما میں نے دیکھا کہ فوراً ایک خوان سامنے رکھا گیا جس میں روٹیاں ،بھنا ہوا گوشت اورترو تازہ کھجوریں اور
پانی کا لوٹا رکھا ہواتھا ہم دونوں نے کھایا پانی پیا اور چل دیے ،سات دن تک چلتے رہے ۔ساتویں
٢ فضائل صدقات ص٢٢١ ٣ بخاری شریف بحوالہ مشکٰوة ص١٣٥ ٤ ابن ماجہ ص ١٨٣ ، مشکٰوة ص ١٨٣