Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002

اكستان

42 - 65
	(١)  فرشتے اس سے ہم کلام ہوں ۔
	(٢)  فرشتوں کی جانب سے کوئی بات اس طرح دل میں ڈالی جائے گویا اس سے کسی نے کہہ دی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کی زبان سے صدق و صواب والی بات ہی نکلتی ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی یہ ذمہ داری نہیں کہ دنیا کے کاموں کی تفصیلات بتائیں  :
عن رافع بن خدیج قال قدم النبیُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المدینة وھم یأ برون النخل فقال ما تصنعون قالوا کنا نصنعہ قال لعلکم لولم تفعلوا کان خیرا فترکوہ فنقصت قال فذکروا ذٰ لک لہ فقال أنما أَنا بَشَراذا أمرتکم بشیٔ من أمر دینکم فخذ وا بہ واذا أمرتکم بشیٔ من رأیی فأنما أَنا بشر وفی روایة قال أنتم أعلم بأُموردُنیا کم  (مسلم)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگوں کی عادت یہ تھی کہ وہ اپنے کھجور کے درختوں کی تابیر کرتے تھے ( یعنی مذکر درخت کا خوشہ لے کر مؤنث درخت کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ اس کے بعد جب پھل آتا تو بہت کثرت سے آتا ) آپ نے پوچھا ایسا کیوں کرتے ہو لوگوں نے عرض کیا (پھلوں کی پیداوار میں کثرت کے لیے )ہم یہ کام پہلے سے کرتے آئے ہیں ۔آپ نے فرمایا اگر نہ کرو تو شاید بہتر ہو ۔ یہ سن کر لوگوں نے تابیر کرنا چھوڑد یا پھل کم آنے لگا اس پرلوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ نے فرمایا دیکھو میں بشر ہوں جب تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کسی بات کا حکم دوںاُسے تو فوراً بِلاپس و پیش اختیار کر لو اور جب (دنیا کے معاملات میں ) کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو میں صرف بشر ہوں اور ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا اپنی دنیوی زندگی کے معاملات کو تم خود بہترجانتے ہو۔
	فائدہ  :  اللہ تعالی نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے واسطے سے اپنے بندوں پر اپنی اطاعت کی کچھ باتیں مقرر فرمائی ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے وہ اللہ تعالی کا قرب اور اس کی رحمت حاصل کریں_ ۔ ان سب باتوںکے مجموعہ کو دین کہتے ہیں ۔وہ باتیں یہ ہیں  :  عقائد ،عبادات، معاملات، حدود اور آداب۔
	معاملات میں مالی ، عائلی اور عدالتی معاملات بھی شامل ہیں اور امانت و ترکہ کے معاملات بھی دینوی امورکا

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
68 اس شمارے میں 3 1
69 حرف آغاز 4 1
70 درس حديث 6 1
71 مسلمانوں کی حکومتوں کے زوال کا سبب بداعمالیاں ہیں نہ کہ مذہب 6 70
72 مسلمانوں کی حکومتوں کے زوال کے اسباب : 7 70
73 اسلام سے غفلت کا نتیجہ : 7 70
74 پاکستان بناتے وقت دو قسم کی سوچ : 7 70
75 ''سر ''کے خطاب یافتہ حکمران : 8 70
76 اغراض پرستی کا وبال : 8 70
77 پاکستان میں اسلام پر عمل نہیں ہوا بلکہ دھوکہ ہوا : 9 70
78 اسلام کا مطلب : 9 70
79 مثال سے وضاحت : 9 70
80 موجودہ عدالتی طریقہ : 10 70
81 اسلامی طریقہ : 10 70
82 حاکم خدا کا نمائندہ ہوتا ہے : 11 70
83 مدنیہ منورہ کے قاضی سے ملاقات : 11 70
84 ذوالحلیفہ کے پانی کی برکت : 11 70
85 جج بھی اور بے خوف بھی : 12 70
86 اللہ کی نمائندگی کا فائدہ : 12 70
87 جج کے اخلاقی فرائض : 13 70
88 ترغیب و ترہیب : 13 70
89 اسلام کو کبھی زوال نہیں ہوا : 14 70
90 سائنسی ترقی مشکل نہیں ہے : 14 70
91 پاکستان اور گائیڈڈ میزائیل : 14 70
92 پاکستان سب سے آگے ہوتامگر پاکستان کی بد قسمتی : 15 70
93 غلطی فہمی : 15 70
94 فرقہ واریت کیا ہے ؟اور کیو ں ہے؟اور سدباب کیا ہے؟ 16 1
95 ازالہ شبہات : 16 94
96 فرقہ واریت کی قسمیں : 25 94
97 دُعائے مشائخ درشب براء ت 27 1
98 دینی مسائل 29 1
99 ( نجاستوں کا بیان ) 29 98
100 نجاست ِغلیظہ : 29 98
101 نجاست ِخفیفہ : 29 98
102 نجاستوں کاحکم : 30 98
103 نجاست لگی چیزوں کے پاک کرنے کا طریقہ : 30 98
104 (١) دھونا : 30 98
105 (٢) پونچھنا : 31 98
106 (٣) خشک ہو کر اُس کا اثر جاتے رہنا : 34 98
107 (٤) جلانا : 34 98
108 (٥) حقیقت کا بدل جانا : 34 98
109 (٦) چمڑے کا دباغت سے پاک ہونا : 35 98
110 (٧) ذبح سے پاک ہونا : 35 98
111 (٨) مَلنا کُھرچنا : 35 98
112 (٩) گِھسنااور رگڑنا : 35 98
113 متفرقات : 35 98
114 صدائے سحر شمس دیوبندی 37 1
115 فہم حدیث 39 1
116 نبوت و رسالت 39 115
117 نبوت کے دلائل : 39 115
118 ختم نبوت : 39 115
119 نبوت کے اثرات : 40 115
120 اللہ اور رسول کے ساتھ محبت کا تعلق : 44 115
121 نبی ۖ کی تعریف و تعظیم میں غلو سے ممانعت : 46 115
122 انبیاء کی عالم برزخ میں حیات کی کیفیت : 47 115
123 انبیا ء علیہم السلام کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے : 50 115
124 حاصل مطالعہ 51 1
125 اِنَّمَاا لْاَعْمَالُ بِالنِّیََّاتِ : 51 124
126 ایک بنی اسرائیلی کے صدقہ کرنے کا واقعہ : 51 124
127 سادات کے ساتھ نیکی کا صلہ : 52 124
128 تحریک احمدیت 57 1
129 مذہبی مباحث پر ایک یادداشت : 57 128
130 تقريظ وتنقيد 61 1
131 اب تو اُٹھ جائو ! 37 114
Flag Counter