ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
اكستان |
|
(١) فرشتے اس سے ہم کلام ہوں ۔ (٢) فرشتوں کی جانب سے کوئی بات اس طرح دل میں ڈالی جائے گویا اس سے کسی نے کہہ دی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کی زبان سے صدق و صواب والی بات ہی نکلتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی یہ ذمہ داری نہیں کہ دنیا کے کاموں کی تفصیلات بتائیں : عن رافع بن خدیج قال قدم النبیُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المدینة وھم یأ برون النخل فقال ما تصنعون قالوا کنا نصنعہ قال لعلکم لولم تفعلوا کان خیرا فترکوہ فنقصت قال فذکروا ذٰ لک لہ فقال أنما أَنا بَشَراذا أمرتکم بشیٔ من أمر دینکم فخذ وا بہ واذا أمرتکم بشیٔ من رأیی فأنما أَنا بشر وفی روایة قال أنتم أعلم بأُموردُنیا کم (مسلم) حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگوں کی عادت یہ تھی کہ وہ اپنے کھجور کے درختوں کی تابیر کرتے تھے ( یعنی مذکر درخت کا خوشہ لے کر مؤنث درخت کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ اس کے بعد جب پھل آتا تو بہت کثرت سے آتا ) آپ نے پوچھا ایسا کیوں کرتے ہو لوگوں نے عرض کیا (پھلوں کی پیداوار میں کثرت کے لیے )ہم یہ کام پہلے سے کرتے آئے ہیں ۔آپ نے فرمایا اگر نہ کرو تو شاید بہتر ہو ۔ یہ سن کر لوگوں نے تابیر کرنا چھوڑد یا پھل کم آنے لگا اس پرلوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ نے فرمایا دیکھو میں بشر ہوں جب تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کسی بات کا حکم دوںاُسے تو فوراً بِلاپس و پیش اختیار کر لو اور جب (دنیا کے معاملات میں ) کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو میں صرف بشر ہوں اور ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا اپنی دنیوی زندگی کے معاملات کو تم خود بہترجانتے ہو۔ فائدہ : اللہ تعالی نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے واسطے سے اپنے بندوں پر اپنی اطاعت کی کچھ باتیں مقرر فرمائی ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے وہ اللہ تعالی کا قرب اور اس کی رحمت حاصل کریں_ ۔ ان سب باتوںکے مجموعہ کو دین کہتے ہیں ۔وہ باتیں یہ ہیں : عقائد ،عبادات، معاملات، حدود اور آداب۔ معاملات میں مالی ، عائلی اور عدالتی معاملات بھی شامل ہیں اور امانت و ترکہ کے معاملات بھی دینوی امورکا