ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
اكستان |
|
چیزیں ہیں ۔آپ نے فرمایا اچھے (یعنی سچے ) خواب (جو مسلمان خود دیکھے یا اُس کے لیے کوئی دوسرا دیکھے)۔ تنبیہہ ١ : یہ ضروری نہیں کہ سچے خواب ہمیشہ خوشی و مسرت کے متعلق ہوں رنج و غم کے متعلق بھی ہو سکتے ہیں ۔مگر رویاء صالحہ یعنی اچھے خواب میں یہ حصہ مغلوب ہوتا ہے اوربشارت کا حصہ غالب۔اس کے برعکس شیطانی خواب اکثر خوفناک ہوتے ہیں اور مسرت وخوشی کے شاذو نادر کیونکہ شیطان کا مقصود ہی مسلمان کو غم ہوحزن پہنچانا ہے۔ تنبیہہ٢ : نبوت سے قبل عالم میں عام طور سے کفر و گمراہی اور ظلم و فساد کی تاریکیاں چھائی ہوتی ہیں ۔ جب نبوت کا سورج طلوع ہوتا ہے تو پورے عالم میں اس کے بر کات و انوار پھیل جاتے ہیں ۔ظلم و فساد کی جگہ رشد و صلاح کا دوردورہ ہوتا ہے ۔انسانی عادتوں میں تبدیلی آتی ہے اور افراط و تفریط، عجلت و جلد بازی کی بجائے متانت وبردباری ،وقار ومیانہ روی پیدا ہو جاتی ہے۔ انسان کے باطن کا رشتہ شیطان سے یکسر کٹ جاتا ہے اور عالم بالا کے ساتھ ایسا تعلق قائم ہو جاتا ہے کہ اس میں (عالمِ حِس سے ماورا ) وہاں کے کچھ مغیبات کے انعکاس کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے ان ہی اوصاف کو نبوت کے اجزا ء یا نبوت کے آثار و برکات کہا جاتا ہے ۔ یہ اوصاف نبوت اور نبی کی برکت سے تو حاصل ہوتے ہیں لیکن ان کے حاصل ہونے سے کوئی شخص نبی نہیں بنتا۔ رویاء صا لحہ یعنی اچھے خواب دیکھنا انسان کے باطن کے متاثر ہونے کی نشانی ہے اور عادتوں کا انقلاب انسان کے ظاہر کے متاثر ہونے کی علامت ہے۔ احادیث میں ایک طرف رویا ء صالحہ کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ کہا گیا ہے دوسری طرف بعض بلند اخلاق کو نبوت کا چھبیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے التؤدة والاقتصاد وحسن السمت من ستة وعشرین جزء من النبوة (ترمذی)بردباری و متانت ، میانہ روی اور اچھی روِش نبوت کا چھبیسواں جزء ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان اخلاق کی وجہ سے کسی کو نبی نہیں کہا جا سکتا جب کہ یہ چھبیسواں جزء ہیں تو چھیالیسویں جز و کو نبوت کیسے کہا جاسکتا ہے۔ عن أَبی ھریرة قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لقدکان فیما قبلکم من الأُمم محد ثون فان یک فی أُمتی أَحد فانہ عمر (بخاری و مسلم) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی اُمتوں میں (یعنی بنی اسرئیل میں )محدث ہوا کرتے تھے (یعنی جن سے غیبی طور پر باتیں کی جاتی تھیں مگر وہ نبی نہ ہوتے تھے )اگر میری اُمت میں صرف ایک شخص ہی ایسا ہوتا تو وہ عمر ہیں ۔ فائدہ : غیبی طور پر باتیں کی جانے کی یہ صورتیں ہیں ۔