Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002

¾اكستان Ù

43 - 65
ایک بڑا شعبہ ان ہی معاملات پرمشتمل ہے اور اس طرح سے وہ براہ راست دین کا ایک جز و ہے ۔اس شعبہ کی رہنمائی ہمیں دین ہی سے ملتی ہے اور انبیاء علیہم السلام ہی اس کے مو سس اور معلم ہوتے ہیں ۔تجارت میں ایجاب وقبول ،جواز اور صحت کی شر ا ئط، بائع ومشتری کے اختیارات ،اختلاف کی صورت میں فیصلہ کی راہ ، مزار عت کن شرائط سے کرنا مناسب ہے۔ جنگ و صلح کی کیا شرائط ہوں یہ سب باتیں دین کے دائرے میں آتی ہیں جنہیں انبیا ء خود سکھاتے بتاتے ہیں لیکن ان کے بعد زراعت کی یہ تفصیلات کہ اس کے لیے کس کس سامان کی ضرورت ہے ،کس کس قسم کی مصنوعات درکار ہیں ،کس زمین میں کیسی کھاد ڈالی جاتی ہے ،کس موسم میں کیا بویا جاتا ہے، فولاد کیسے بنایا جاتا ہے اور نئی نئی ایجادات کیسے ہوتی ہیں ۔یہ دنیا کا دوسرا شعبہ ہے جو دین سے متعلق نہیں ۔ان باتوں کو دنیا انبیا ء کے آنے سے پہلے بھی جانتی تھی اور ان کے بعد بھی ان میں ہزاروں ترقیاں کرتی رہتی ہے اس لیے فرمایا کہ یہ تمہاری دنیاہے اسے تم خود جانتے بوجھتے ہو۔
انبیاء کو سب سے زیادہ تقوٰی اور معرفتِ الہی حاصل ہوئی ہے  :
عن عائشة رضی اللّٰہ عنھا قالت کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أذا أمرہم من الأعمال بما یطیقون قالوا أنا لسنا کھیئتک یارسول اللّٰہ ان اللّٰہ قد غفرلک ماتقدم من ذنبک وما تأخر فیغضب حتی یعرف الغضب فی وجھہ ثم یقول ان اتقاکم واعلمکم باللّٰہ أنا   (بخاری )
حضرت عائشہ   کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات کا صحابہ کو حکم دیتے تو ایسی بات کا حکم دیتے جو اُن سے (سہولت سے ) ہو سکے ۔ وہ (شوق شوق میں ) عرض کرتے یا رسول اللہ (کچھ اور بڑھا دیجئے کیونکہ ) ہم آپ کی طرح تو نہیں ۔آپ کی تو اللہ تعالی نے اگلی پچھلی سب لغزشیں (جو کہ صرف اجتہادی ہیں وہ بھی ) معاف کر دی ہیں (ہماری کوتاہیاں تو معاف نہیں کیں لہٰذا ہمیں زیادہ عمل کرنا چاہیے )۔اس پر آپ کو اتنا غصہ آتاکہ اس کا اثر چہرہ مبارک پر نمایاں ہونے لگتا پھر آپ فرماتے دیکھو تم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والا اللہ تعالی کی ذات وصفات کا سب سے زیادہ عالم میں ہوں ۔
عن عائشة قالت صنع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم شیأ فرخص فیہ فتنزہ عنہ قوم فبلغ ذٰلک النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فخطب فحمد اللّٰہ وأثنٰی علیہ ثم قال ما بال أقومٍ یستنزھون عن الشیٔ أصنعہ فواللّٰہ أنی لأعلمھم باللّٰہ وأشد ھم لہ

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
68 اس شمارے میں 3 1
69 حرف آغاز 4 1
70 درس حديث 6 1
71 مسلمانوں کی حکومتوں کے زوال کا سبب بداعمالیاں ہیں نہ کہ مذہب 6 70
72 مسلمانوں کی حکومتوں کے زوال کے اسباب : 7 70
73 اسلام سے غفلت کا نتیجہ : 7 70
74 پاکستان بناتے وقت دو قسم کی سوچ : 7 70
75 ''سر ''کے خطاب یافتہ حکمران : 8 70
76 اغراض پرستی کا وبال : 8 70
77 پاکستان میں اسلام پر عمل نہیں ہوا بلکہ دھوکہ ہوا : 9 70
78 اسلام کا مطلب : 9 70
79 مثال سے وضاحت : 9 70
80 موجودہ عدالتی طریقہ : 10 70
81 اسلامی طریقہ : 10 70
82 حاکم خدا کا نمائندہ ہوتا ہے : 11 70
83 مدنیہ منورہ کے قاضی سے ملاقات : 11 70
84 ذوالحلیفہ کے پانی کی برکت : 11 70
85 جج بھی اور بے خوف بھی : 12 70
86 اللہ کی نمائندگی کا فائدہ : 12 70
87 جج کے اخلاقی فرائض : 13 70
88 ترغیب و ترہیب : 13 70
89 اسلام کو کبھی زوال نہیں ہوا : 14 70
90 سائنسی ترقی مشکل نہیں ہے : 14 70
91 پاکستان اور گائیڈڈ میزائیل : 14 70
92 پاکستان سب سے آگے ہوتامگر پاکستان کی بد قسمتی : 15 70
93 غلطی فہمی : 15 70
94 فرقہ واریت کیا ہے ؟اور کیو ں ہے؟اور سدباب کیا ہے؟ 16 1
95 ازالہ شبہات : 16 94
96 فرقہ واریت کی قسمیں : 25 94
97 دُعائے مشائخ درشب براء ت 27 1
98 دینی مسائل 29 1
99 ( نجاستوں کا بیان ) 29 98
100 نجاست ِغلیظہ : 29 98
101 نجاست ِخفیفہ : 29 98
102 نجاستوں کاحکم : 30 98
103 نجاست لگی چیزوں کے پاک کرنے کا طریقہ : 30 98
104 (١) دھونا : 30 98
105 (٢) پونچھنا : 31 98
106 (٣) خشک ہو کر اُس کا اثر جاتے رہنا : 34 98
107 (٤) جلانا : 34 98
108 (٥) حقیقت کا بدل جانا : 34 98
109 (٦) چمڑے کا دباغت سے پاک ہونا : 35 98
110 (٧) ذبح سے پاک ہونا : 35 98
111 (٨) مَلنا کُھرچنا : 35 98
112 (٩) گِھسنااور رگڑنا : 35 98
113 متفرقات : 35 98
114 صدائے سحر شمس دیوبندی 37 1
115 فہم حدیث 39 1
116 نبوت و رسالت 39 115
117 نبوت کے دلائل : 39 115
118 ختم نبوت : 39 115
119 نبوت کے اثرات : 40 115
120 اللہ اور رسول کے ساتھ محبت کا تعلق : 44 115
121 نبی ۖ کی تعریف و تعظیم میں غلو سے ممانعت : 46 115
122 انبیاء کی عالم برزخ میں حیات کی کیفیت : 47 115
123 انبیا ء علیہم السلام کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے : 50 115
124 حاصل مطالعہ 51 1
125 اِنَّمَاا لْاَعْمَالُ بِالنِّیََّاتِ : 51 124
126 ایک بنی اسرائیلی کے صدقہ کرنے کا واقعہ : 51 124
127 سادات کے ساتھ نیکی کا صلہ : 52 124
128 تحریک احمدیت 57 1
129 مذہبی مباحث پر ایک یادداشت : 57 128
130 تقريظ وتنقيد 61 1
131 اب تو اُٹھ جائو ! 37 114
Flag Counter