ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
ایک بڑا شعبہ ان ہی معاملات پرمشتمل ہے اور اس طرح سے وہ براہ راست دین کا ایک جز و ہے ۔اس شعبہ کی رہنمائی ہمیں دین ہی سے ملتی ہے اور انبیاء علیہم السلام ہی اس کے مو سس اور معلم ہوتے ہیں ۔تجارت میں ایجاب وقبول ،جواز اور صحت کی شر ا ئط، بائع ومشتری کے اختیارات ،اختلاف کی صورت میں فیصلہ کی راہ ، مزار عت کن شرائط سے کرنا مناسب ہے۔ جنگ و صلح کی کیا شرائط ہوں یہ سب باتیں دین کے دائرے میں آتی ہیں جنہیں انبیا ء خود سکھاتے بتاتے ہیں لیکن ان کے بعد زراعت کی یہ تفصیلات کہ اس کے لیے کس کس سامان کی ضرورت ہے ،کس کس قسم کی مصنوعات درکار ہیں ،کس زمین میں کیسی کھاد ڈالی جاتی ہے ،کس موسم میں کیا بویا جاتا ہے، فولاد کیسے بنایا جاتا ہے اور نئی نئی ایجادات کیسے ہوتی ہیں ۔یہ دنیا کا دوسرا شعبہ ہے جو دین سے متعلق نہیں ۔ان باتوں کو دنیا انبیا ء کے آنے سے پہلے بھی جانتی تھی اور ان کے بعد بھی ان میں ہزاروں ترقیاں کرتی رہتی ہے اس لیے فرمایا کہ یہ تمہاری دنیاہے اسے تم خود جانتے بوجھتے ہو۔ انبیاء کو سب سے زیادہ تقوٰی اور معرفتِ الہی حاصل ہوئی ہے : عن عائشة رضی اللّٰہ عنھا قالت کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أذا أمرہم من الأعمال بما یطیقون قالوا أنا لسنا کھیئتک یارسول اللّٰہ ان اللّٰہ قد غفرلک ماتقدم من ذنبک وما تأخر فیغضب حتی یعرف الغضب فی وجھہ ثم یقول ان اتقاکم واعلمکم باللّٰہ أنا (بخاری ) حضرت عائشہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات کا صحابہ کو حکم دیتے تو ایسی بات کا حکم دیتے جو اُن سے (سہولت سے ) ہو سکے ۔ وہ (شوق شوق میں ) عرض کرتے یا رسول اللہ (کچھ اور بڑھا دیجئے کیونکہ ) ہم آپ کی طرح تو نہیں ۔آپ کی تو اللہ تعالی نے اگلی پچھلی سب لغزشیں (جو کہ صرف اجتہادی ہیں وہ بھی ) معاف کر دی ہیں (ہماری کوتاہیاں تو معاف نہیں کیں لہٰذا ہمیں زیادہ عمل کرنا چاہیے )۔اس پر آپ کو اتنا غصہ آتاکہ اس کا اثر چہرہ مبارک پر نمایاں ہونے لگتا پھر آپ فرماتے دیکھو تم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والا اللہ تعالی کی ذات وصفات کا سب سے زیادہ عالم میں ہوں ۔ عن عائشة قالت صنع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم شیأ فرخص فیہ فتنزہ عنہ قوم فبلغ ذٰلک النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فخطب فحمد اللّٰہ وأثنٰی علیہ ثم قال ما بال أقومٍ یستنزھون عن الشیٔ أصنعہ فواللّٰہ أنی لأعلمھم باللّٰہ وأشد ھم لہ