ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
جواب : خیالاتی اور عقلی دنیا میں تو یہ بات بالکل درست ہے لیکن واقعات و مشاہدات کی دنیا میں مشکل ہے بلکہ خلاف عقل ہے کیونکہ ڈاکٹر کے نسخہ تجویز کرنے میں اور جج کے فیصلہ لکھنے میں غلطی ممکن ہے کیونکہ ڈاکٹر اور جج معصوم نہیں اس لیے ڈاکٹر کے نسخہ اور جج کے فیصلہ کو پرکھا جا سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ پرکھنے کا حق کس کوہے؟ ہر ذی شعورآدمی سمجھ سکتا ہے کہ ہر آدمی کو یہ حق نہیں بلکہ ڈاکٹر کے نسخہ کو ڈاکٹر ،اور جج کے فیصلہ کو جج ہی پرکھ سکتا ہے اسی طرح مجتہد کی تحقیق پرکھنے کا حق ہے لیکن اس جیسے مجتہد کو نہ کہ ہرایک کو ۔ظاہر بات ہے کہ ایم ۔اے کے پرچہ کو میٹرک پاس کیسے پرکھ سکتا ہے ؟ پس جیسے یہ خلافِ عقل بھی ہے او عملاً ناممکن بھی۔ اسی طرح غیر مجتہد شخص کا ماہر شریعت مجتہد کی تحقیق کو پرکھنا خلاف ِعقل اور عملاً ناممکن ہے۔باقی غیر ذ ی شعور اور غیر ذی عقل لوگوں کی دنیا ہی اپنی ہوتی ہے جس کے ساتھ ذی شعور اور ذی عقل لوگوں کا تعلق ہی نہیں ہوتا۔ (٩) مجتہد ین آئمہ کرام کے درمیان چونکہ اختلاف ہے اس لیے مجتہدین کی تحقیق پر چلنے کی صورت میں بھی اختلاف جُوں کا توں باقی رہے گا اور یہی اختلاف تو فرقہ واریت ہے۔ جواب : اولاً یہ ہے کہ مسائل شرعیہ کی دو قسمیں ہیں (١) مسائل قطعیہ یعنی وہ مسائل جن کا ثبو ت یقینی اور قطعی ہو مثلاً توحید،رسالت،قیامت ،صداقت ِقرآن ،جنت ودوزخ،وجودِ ملائکہ ،ختم نبوت ،نزول عیسیٰ علیہ السلام ،عذاب قبر،حیات ِانبیا ء علیہم السلام فی القبور ،آخرت میں میزان ،پُل صراط، شفاعت ،رؤیة باری تعالی ،پانچ نمازوںکی فرضیت، رمضان کے روزوں کی فرضیت ، ذی استطا عت پر حج کی فرضیت، زکٰوة کی فرضیت ،سود کی حرمت ،زنا کی حرمت ،چوری ڈکیتی کی حرمت ،شراب کی حرمت ،مسواک کا سنت ہونا ،داڑھی کاسنت ہونا ،قربانی ،اذان و تکبیر وغیرہ (٢) مسائل ظنیہ یعنی وہ مسائل جن کا ثبوت یقینی و قطعی نہیں بلکہ وہ غلبۂ ظن کے درجہ میں ثابت ہیں مثلاً اللہ تعالی کی صفت تکوین مستقل صفت ہے یا صفت قدرت میں داخل ہے۔صفاتِ الہیہ عین ذات ہیں یا غیر ذات ، عذاب قبر کی کیفیت ،حیاة فی ا لقبر کی کیفیت ،انبیاء علیہم السلام افضل ہیں یا ملائکہ ۔سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کون سے نبی افضل الانبیا ہیں ۔ ایمان کم زیادہ ہوتا ہے یا نہیں ۔وضوئ، غسل ،نماز، روزہ ،حج وغیرہ میں سے ہر ایک میں سے ہر ایک میں فرائض ،واجبات ، سنن ، مستحبات کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں یا وہ مسائل غیر منصوصہ ہیں یعنی کتاب و سنت میں ان کا ذکر نہیں ہوا جیسے ہر زمانہ کے پیش آمدہ اکثر جدید مسائل ان مسائل ظنیہ کو مسائل اجتہاد یہ بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل مسائل کے ان دو قسموںکی بنیاد دلائل کے دو قسموں پر ہے دلائل دو قسم کے ہیں (١) دلائلِ قطعیہ یعنی وہ دلائل جو نبو ت کے لحاظ سے قطعی ہیں اور مفہوم کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں جیسے لاالہ الا ہو الحی القیوم ،محمد رسول اللہ ،واقیمو االصلوة و اٰتوالزکوة وغیرہ (٢)وہ دلائل ظنیہ یعنی وہ جن کا ثبوت غلبۂ ظن