Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002

¾اكستان Ù

22 - 65
پورے علم کو کتاب میں منتقل کر بھی نہیں سکتا جو کچھ ا سکی کتاب میں ہو گا وہ اس کے علم کا کچھ ہی حصہ ہو گا۔ جب یہ صورت حال ہے تو دین سمجھنے کے لیے صرف قرآن کا اردو ترجمہ اور صحاح ستہ کے اردو تراجم کیونکر کافی ہو سکتے ہیں ؟ جبکہ صحاح ستہ کی احادیث ملاکرچھ سات ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دین اور علم دین کی عظمت و اہمیت ہی ختم ہو چکی ہے اور خوفِ خدا دل سے نکل چکا ہے اس لیے اس کی تحقیق پر جاہل سے جاہل آدمی بھی دلیر ہے ۔
	(٧)      اگر خود تحقیق نہ کریں تو ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا ذہنی ارتقا ء رُک جائے گا۔ 
	جواب  :  اس کا اولاً جواب یہ ہے کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ ماہرین کا ملین کے تحقیق شدہ مسائل کی ناقصین کو دوبارہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ ڈاکٹر کے نسخہ کی مریض کو چیک کرنے کی یا اپنے طور پر تحقیق کرکے نسخہ تجویز کرنے کی اجازت نہیں۔رہے جدید حالات کے تحت پیش آنے والے جدید مسائل وہ بہر کیف حل کرنے پڑیں گے جن کی وجہ سے ذہنی بالیدگی ،ذہنی ارتقاء اور علمی ترقی جاری رہے گی۔ ثانیًا جواب یہ ہے کہ حالاتِ زمانہ کے بدلنے سے طرزِ استدلال بھی بدلتا ہے اس لیے یہ ضرورت ہر زمانہ میں باقی رہتی ہے کہ حالات زمانہ کے مطابق انہی قدیم تحقیقات کو جدید دلائل کے ساتھ مدلل کرکے پیش کیا جائے نیز ماہرین شریعت کی تحقیق کے مطابق احکام ِشرعیہ کی حکمتیں اور اسرار جدید علوم و فنون کی روشنی میں تلاش کی جائیں ۔مثال کے طور پر بول و براز کی وجہ سے وضو کے لازم اور منی کی وجہ سے غسل لازم کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ پھر وضو ٹوٹنے میں حدث لاحق ہوتی ہے پورے بدن میں مگر حکم ہے چہرے،بازواور پائوں دھونے کا اور سر پہ مسح کرنے کا ۔وضو میں ان چار اعضا ء کی تخصیص کیوں ہے؟ پھر ان چار اعضاء کے دھونے سے پورا بدن پاک ہو جاتا ہے اس میںکیا حکمت ہے ؟ جدید محققین کی تحقیق کے لیے یہ میدانِ تحقیق بڑا وسیع ہے وہ اس تحقیق میں اپنے علم وفن کی توانائیاں خرچ کریں اور مزید ترقی کریں۔ ثالثاً عرض یہ ہے کہ اجتہاد اور استشہاد میں بڑا فرق ہے مجتہد کا غیر منصوص مسئلہ کو کتاب وسنت کی روشنی میں از خود اجتہاد و فقاہت کے ذریعہ حل کرنا اجتہا دہے وہ چونکہ اس مسئلہ کے ساتھ اپنے تفصیلی دلائل تحریر نہیں کرتا بطور ِخلاصہ صرف شرعی حکم بیان کر دیتا ہے سو اس نے جو حکم شرعی بیان کیا ہے اس کو بلا چون وچرا اس مجتہد کی مجتہد انہ مہارت کی شہر ت کی بنیاد پربلا دلیل تسلیم کرنا پھر کتاب وسنت کا مطالعہ کرکے اس کے مستدلات اور مؤیدات کو تلاش کرنا استشہاد کہلاتا ہے۔ پس جس کو شوق و جذبہ ہے تحقیق کا وہ اجتہاد ی تحقیق کی جگہ استشہاد ی تحقیق کرے او رخوب علمی ترقی اور ذہنی ارتقاء کی منزلیں طے کرے۔ 
	(٨)     مجتہد غیر معصوم تھے ان سے غلطی ہوسکتی ہے لہٰذا ان کی تحقیق کو پرکھا جا سکتا ہے اگر وہ پرکھ میں غلط ثابت ہوتو اس کو چھوڑ کر اس کی جگہ جدید تحقیق جو صحیح ہووہ اختیار کی جاسکتی ہے۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
68 اس شمارے میں 3 1
69 حرف آغاز 4 1
70 درس حديث 6 1
71 مسلمانوں کی حکومتوں کے زوال کا سبب بداعمالیاں ہیں نہ کہ مذہب 6 70
72 مسلمانوں کی حکومتوں کے زوال کے اسباب : 7 70
73 اسلام سے غفلت کا نتیجہ : 7 70
74 پاکستان بناتے وقت دو قسم کی سوچ : 7 70
75 ''سر ''کے خطاب یافتہ حکمران : 8 70
76 اغراض پرستی کا وبال : 8 70
77 پاکستان میں اسلام پر عمل نہیں ہوا بلکہ دھوکہ ہوا : 9 70
78 اسلام کا مطلب : 9 70
79 مثال سے وضاحت : 9 70
80 موجودہ عدالتی طریقہ : 10 70
81 اسلامی طریقہ : 10 70
82 حاکم خدا کا نمائندہ ہوتا ہے : 11 70
83 مدنیہ منورہ کے قاضی سے ملاقات : 11 70
84 ذوالحلیفہ کے پانی کی برکت : 11 70
85 جج بھی اور بے خوف بھی : 12 70
86 اللہ کی نمائندگی کا فائدہ : 12 70
87 جج کے اخلاقی فرائض : 13 70
88 ترغیب و ترہیب : 13 70
89 اسلام کو کبھی زوال نہیں ہوا : 14 70
90 سائنسی ترقی مشکل نہیں ہے : 14 70
91 پاکستان اور گائیڈڈ میزائیل : 14 70
92 پاکستان سب سے آگے ہوتامگر پاکستان کی بد قسمتی : 15 70
93 غلطی فہمی : 15 70
94 فرقہ واریت کیا ہے ؟اور کیو ں ہے؟اور سدباب کیا ہے؟ 16 1
95 ازالہ شبہات : 16 94
96 فرقہ واریت کی قسمیں : 25 94
97 دُعائے مشائخ درشب براء ت 27 1
98 دینی مسائل 29 1
99 ( نجاستوں کا بیان ) 29 98
100 نجاست ِغلیظہ : 29 98
101 نجاست ِخفیفہ : 29 98
102 نجاستوں کاحکم : 30 98
103 نجاست لگی چیزوں کے پاک کرنے کا طریقہ : 30 98
104 (١) دھونا : 30 98
105 (٢) پونچھنا : 31 98
106 (٣) خشک ہو کر اُس کا اثر جاتے رہنا : 34 98
107 (٤) جلانا : 34 98
108 (٥) حقیقت کا بدل جانا : 34 98
109 (٦) چمڑے کا دباغت سے پاک ہونا : 35 98
110 (٧) ذبح سے پاک ہونا : 35 98
111 (٨) مَلنا کُھرچنا : 35 98
112 (٩) گِھسنااور رگڑنا : 35 98
113 متفرقات : 35 98
114 صدائے سحر شمس دیوبندی 37 1
115 فہم حدیث 39 1
116 نبوت و رسالت 39 115
117 نبوت کے دلائل : 39 115
118 ختم نبوت : 39 115
119 نبوت کے اثرات : 40 115
120 اللہ اور رسول کے ساتھ محبت کا تعلق : 44 115
121 نبی ۖ کی تعریف و تعظیم میں غلو سے ممانعت : 46 115
122 انبیاء کی عالم برزخ میں حیات کی کیفیت : 47 115
123 انبیا ء علیہم السلام کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے : 50 115
124 حاصل مطالعہ 51 1
125 اِنَّمَاا لْاَعْمَالُ بِالنِّیََّاتِ : 51 124
126 ایک بنی اسرائیلی کے صدقہ کرنے کا واقعہ : 51 124
127 سادات کے ساتھ نیکی کا صلہ : 52 124
128 تحریک احمدیت 57 1
129 مذہبی مباحث پر ایک یادداشت : 57 128
130 تقريظ وتنقيد 61 1
131 اب تو اُٹھ جائو ! 37 114
Flag Counter