ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
کے درجہ میں ہے یا ان کا مفہوم و معنی غیر واضح ہے مثلاً خبر واحد، اس کا ثبوت ظنی ہوتا ہے پھر اگر ان اخبار آ حاد میں تعارض ہو جیسے رفع ید ین اور ترک ،قراء ة خلف الامام اور ترک القراء ة خلف الامام کی متعارض احادیث یا مفہوم کے اعتبار سے اس میں مختلف احتمالا ت ہوں جیسے والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلثلة قروء میں دو احتمال ہیں کہ قراء سے مراد طہر ہو یا حیض پس وہ مسائل جو دلائل قطعیہ سے ثابت ہیں وہ قطعی ہیں اور جو دلائل ظنیہ سے ثابت ہیں وہ ظنی ہیںپھر مسائل قطعیہ کی دو قسمیںہیںوہ مسائل جن کا ثبوت اتنا قطعی اور واضح ہے کہ ان کو ہر مسلمان خواہ عالم ہو یا غیر عالم جانتا ہے ۔ان کو ضرور یاتِ دین کہا جاتاہے مثلاً توحید ،رسالت، قیامت ،صداقتِ قرآن، جنت و دوزخ ،ختم نبوت وغیرہ ان کوضروریات دین کہا جاتا ہے ان میں سے کسی ایک عقیدہ کا انکار خوا ہ تا ویل کے ساتھ ہو کفر ہے او ر وہ مسائل جن کا ثبوت دو راول میں واضح نہ تھا بعد میں ان کا ثبوت اوردینی و شرعی حکم ہونا اتنا واضح ہو گیا کہ ان کو ہر عام وخاص مسلمان جانتا ہے ان مسائل کو ضروریات ِاہل سنت والجماعت کہاجاتا ہے جیسے عذاب قبر ،حیاة انبیا ء علیہم السلام فی القبور وغیرہ ۔ان عقاید میں سے کسی عقیدے کا انکا ر کفر تو نہیںالبتہ اہل سنت والجماعت کی جماعت حقہ سے خارج ہو جاتاہے اور مسائل ظنیہ اجتہادیہ میں سے کسی ظنی مسئلہ کا انکار نہ کفر ہے نہ اس سے اہل سنت والجماعت سے خروج لازم آتا ہے۔ یہ بات سمجھ لیجئے کہ فرقہ واریت مسائل قطعیہ میں اختلاف کا نام ہے باقی مسائل ظنیہ اجتہادیہ میں اختلاف فرقہ واریت نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف تو باعث اجر ہے۔ مجتہد مصیب کو دوا جر اور مجتہد کو ایک اجر ملے گا اور اتنا ہی اجر ملے گا ہر ایک کے مقلدین کو ۔ آئمہ مجتہدین کے درمیان جو اختلاف ہے وہ مسائلِ اجتہادیہ میں ہے مسائل قطعیہ میں نہیں ہے ا س لیے فقہ کے چاروں مکتبِ فکر اہل سنت والجماعت جماعت حقہ ہیں اور ماانا علیہ واصحابی میں داخل ہیں۔ قرآن کریم میں ہے ولا تفرقوامن بعد ماجا ئھم البینت اور باہمی تفرقہ مت ڈالو واضح احکام آجانے کے بعد۔پتہ چلاقطعی اور واضح احکام میں تفرقہ فرقہ واریت ہے۔ ثانیًا عرض یہ ہے کہ اللہ تعالی کی تکوینی حکمت کے تحت آئمہ اربعہ کے مذاہب مدون ہو گئے اور مدون ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے اور مختلف ملکوں اور علا قوں میں عملاً رائج اور قانوناً نا فذ ہو گئے ان مذاہب اربعہ میںسے رواج و نفاذ کے اعتبار سے اللہ تعالی نے فقہ حنفیہ کو زیادہ قبولیت عطا کی اس لیے اس کی پزیرائی اور پھیلائوں کادائرہ بمقابلہ باقی مذاہب ثلثہ کے زیادہ وسیع ہوا اور عملاً طے ہوگیا کہ جس ملک اور جس علاقے میں ان میں سے جو مذہب قبولیت پا گیا ہے وہاں وہی مذہب چلے گا دوسرے مذہب والے اس میں مداخلت کرکے بدامنی کی فضا پیدا نہ کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کی خلافت عثمانیہ کے خلاف دہشت گردی سے قبل خلافت ِعثمانیہ کے تحت مکہ و مدینہ میں ساڑھے پانچ سو سال تک حنفیوں کی حکومت رہی جس میں فقہ حنفی بطور قانون نافذ تھی لیکن اتنے طویل عرصہ میں کبھی بھی احناف اور غیر احناف کے درمیان محاذ آرائی نہیں ہوئی اور اب تقریبًا ساٹھ سال سے سعودی عرب میں فقہ حنبلی نافذہے تب بھی کوئی محاذ آرائی نہیں