ماہنامہ انوار مدینہ لاہوراکتوبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
براہ راست قرآن و حدیث سے استنباط نہ ہوتا تھا بلکہ مجتہدین سابقین کا تحقیقی و تشریحی اور اجتہاد ی ورثہ جو کتب دینیہ محفوظ تھا اُس کو پڑھ کر اس کے مطابق شرعی حکم بتاتے اور بے علم لوگ اس پر عمل کرتے حتی کہ جب اردوترجمے ہوئے اور وہ بھی صرف قرآن کریم اور صحاح ستہ کے تو یہ نظریہ بن گیا کہ استاذ کی ضرورت نہ دوسری دینی کتب کی، بس قرآن کا اردوترجمہ اور صحاحِ ستہ کے اردو تراجم فہم دین کے لیے کافی ہیں ۔سو یہ طریقہ ایک جدید بدعت ہے پہلے نہ تھا۔ دوسری بات یہ کہ اصحاب ِرسول جو عربی دان تھے عربی اُن کی مادری زبان تھی وہ اس اردو خواں طبقہ سے قرآن وحدیث کو بہتر سمجھتے تھے اس کے باوجود ان میں براہ راست قرآن و حدیث سے احکام اسلام اخذ کرنے اور سمجھنے والے مجتہدین ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ کرام میں سے ایک سو تیس تھے آج اردو خواندہ طبقہ کاہر فرد کیسے مجتہد بن گیا ؟وہ کتاب وسنت کے ساتھ استاذ کے محتاج تھے وہ استاذ و معلم اصحاب رسول کے لیے خود رسول اللہ ۖ، اصاغر صحابہ کے لیے اکابر صحابہ، پھر تابعین کے لیے صحابہ کرام، تبع تابعین کے لیے تابعین اسی طرح ہر دور میں استاذی شاگردی کے طریقہ تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہا اور تعلیم و تعلم کے ذریعہ علم محفوظ رہا ۔اگر استاذ کی ضرورت نہ ہوتی تو کتاب اللہ کے ساتھ رسول اللہ نہ بھیجے جاتے صرف قرآن نازل کر دیا جاتا اور نہ ہی تعلیم و تعلم کی ضرورت تھی وہ خود ہی مطالعہ کر لیا کرتے پس جب وہ صاحب لِسان لوگ ا ستاذ کے محتاج ہیں تو آج کل کے یہ غیر زبان والے ا ستاذ سے کیسے مستغنی ہو گئے ۔ تیسری یہ کہ کتاب و سنت اور علم دین کی خصوصیت کیوں ؟ بغیر تعلیم و تعلم کے اور بغیر استاذ کے ڈاکٹری ،انجینئر نگ ،سائنس وغیرہ علوم میں محض مطالعہ پر اکتفا کیوں نہیں کر لیا جاتا جبکہ ان میں سے ہر علم و فن میں اردو کتب کا وسیع ذخیرہ موجود ہے جو قرآن وحدیث کے تراجم کے مقابلہ مفصل اور واضح ہیں ۔لیکن ان علوم میں تو حالت یہ ہے کہ دوسرے استاذ بنائے جاتے ہیں یعنی سکول ،کالج کے استاذ علیحدہ اور ٹیوشن پڑھانے والے علیحدہ۔ چوتھی بات یہ کہ پورا دین سمجھنے کے لیے محض قرآن اور صحاح ستہ کا ترجمہ ناکافی ہے۔ ہمارے ایک دوست نے غیر مقلد وں کے ایک جید عالم دین اور مناظر پر شرط رکھی کہ وہ پورے دین کے مسائل نہیں صرف نماز کا مکمل طریقہ اور نماز کے ضروری مسائل صرف صحاح ستہ سے سکھا دیں میں اہل حدیث مذہب قبول کر لوں گاوہ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ قرآن اور صحاح ستہ کا اردو ترجمہ دین سمجھنے کے لیے کافی نہیں ۔ اس کے لیے صحاح ستہ کے علاوہ احادیث و آثار کا بہت ذخیرہ ہے جو ضروری ہے، وہ نہ صحاح ستہ میں ہے نہ حدیث کی دوسری مروجہ کتب میں ہے مثلاً امام بخاری فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لاکھ صحیح احادیث میں سے صحیح بخاری کا انتخاب کیا ہے اور صحیح بخاری میں تکرار ختم کرکے کل احادیث کی تعداد چار ہزار ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقی چھیانوے ہزار صحیح احادیث کہاں ہیں ؟ امام احمد بن حنبل کو چھ لاکھ صحیح احادیث یاد تھیں لیکن مسنداحمد میں ان میں سے چند ہزار ہیں باقی حدیثیں کہاں ہیں۔ کتاب الآثار چالیس ہزار احادیث ِصحیحہ سے انتخاب ہے باقی احادیث کہاں ہیں ؟ جبکہ مجتہدین کے سامنے وہ سب احادیث و آثار تھے اور کوئی بھی صاحب علم اپنے