ماہنامہ انوار مدینہ لاہورجولائی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
چوتھی جلد میں اس نے تسلیم کیا کہ کئی لوگوں نے ان تحریروں پر سخت اعتراضات کیے ہیں ، بلکہ گالیاں تک دی ہیں کہ وہ ہندوستان میں برطانوی راج کی وکالت کیوں کرتاہے۔ ٧ تاہم اس نے دلیل دی کہ قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کے مطالعہ کے بعدوہ اپنا ذہن تبدیل نہیں کر سکتا اوراپنے موقف پر قائم ہے ۔اس کتاب کی بعض وجوہات کی بناء پرکچھ حلقوں کی
صفحہ نمبر 20 کی عبارت
جانب سے پذیرائی بھی ہوئی کیونکہ غلطی سے یہ سمجھ لیا گیا کہ یہ اسلامی احیا ء کے ایک دعویدار کی طرف سے اپنے اندازمیں اسلام کے دفاع کی ایک کوشش ہے مگر محتاط مسلمان علماء نے مرزا غلام احمد کے ممکنہ بلند بانگ دعوؤں کے خلاف اپنے خدشات کا اظہار کیا انہوں نے مرزا صاحب کو سیاسی آلہ کار ،جھوٹا مدعی اور نالائق قرار دیا ۔براہین احمدیہ کی طباعت کے بعد اس نے اپنی نجی زندگی پر توجہ دی ۔اس کے پاس ایک آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے کافی رقم اکھٹی ہو گئی تھی اور یہ سلسلہ بڑھتا گیا کیونکہ برطانیہ کے خفیہ فنڈ سے بھی آبیاری جاری رہی ۔اس کے کچھ قریبی ارتقا ء نے اس پر اعتراض کیا کہ ان کی محنت سے کمائی گئی او ر کنجوسی سے بچائی گئی رقم ، جو کہ اسلام کی اشاعت کے لیے بدی جاتی ہے وہ مرزا صاحب کی بیوی ک زیورات کی خریداری پر صرف ہو رہی ہے۔ (''فاروق ''۔قادیاں ۔٧اکتوبر ١٩٩٨ء ۔مرزا صاحب کے نہایت قریبی ساتھی اور جماعت کے اہم رکن خواجہ کمال الدین بھی ان میں سے ایک تھے ۔سید سرور شاہ ۔''کشف اختلاف''۔صفحہ نمبر ١٥ ) ڈاکٹر عبد الحکیم جو ایک وقت میں مرزا صاحب کے پرجوش پیروکار تھے انہوں نے واضح طورپرمرزا صاحب کے رقم بٹورنے کے طریق کار کو افشاء کیا اور بتایا کہ وہ کس طرح اسلام کے نام پررقم بٹورتے تھے اور اسے ذاتی استعمال میں لاتے تھے ۔(الذکر الحکیم نمبر ١تا ٦ ۔مبارک برادرز ۔پٹیالہ سٹیٹ ۔پنجاب ٧۔ ١٩٠٦ء ) ایسی اکا دکا آوازوں کو دبادیا گیا ،بلکہ مرزا صاحب کے دعوؤں میں ڈوب گئیں ۔١٨٨٤ء میں پچاس برس کی عمر میں آپ کو دوسری شادی کا خیال آیا ۔پہلی بیوی سے آپ کے بیٹے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد تھے ۔اگرچہ آپ نے اپنی خراب صحت کا متعدد تحریروں میں بڑا واویلا کیا اور کہا کہ وہ پرانی بیماریوں مثلًا تپ دق ذیابیطس اور درد شقیقہ وغیرہ میں مبتلا ہے اور صنف مخالف میں ہر طرح کی دلچسپی کھو چکا ہے پھر بھی اس نے اعلان کیا کہ خدیجہ کے ساتھ دوسری شادی کے لیے اس پر وحی اُتری ہے ۔ ٨
١٧نومبر ١٨٨٤ ء کو آپ نے نصرت جہاں سے شادی کرلی جو لاہور میں محکمہ آب پاشی میں معمولی ملازم میر ناصر نواب کی بیٹی تھی ۔میر صاحب عرصہ دراز تک مرزا صاحب کے مذہبی دعوؤں کی مخالفت کرتے رہے بعد میں رام ہو گئے ۔مرزا صاحب کو تیسری شادی کی بھی شدید خواہش تھی مگر محمدی بیگم کے ساتھ معاشقے نے انہیں ایک ایسی الہامی دلدل میں پھنسا دیا کہ وہ اس خیال کو زیادہ دیر تک بر قرار نہ رکھ سکے۔
١٨٨٥ء میں مرزا صاحب نے مجد داور وقت کے مصلح ہونے کا دعوٰی کیا ۔اگلے سال آپ ہشیاپور تنہائی میں Brahin-e-Ahmadya,vol.4 p.A 7.
8.Tazkira: 2nd Edition,Rabwah,1969,p.37