ماہنامہ انوار مدینہ لاہورجولائی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
بڑا دعوٰی تھا بعد ازاں ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے کہا کہ وہ اسللام کے حق میں ایک دلیل بھی نہ دے سکے . ٥ مرزا نے یہ کتاب کا روباری نکتہ نظر اور اسلام کے داعی ہونے کی شہرت حاصل کرنے کے لیے لکھی پہلے کتاب کی قیمت پانچ روپے بتائی گئی لیکن بعد ازاں اسے دوگنا کیا اور پھر پچیس روپے تک بڑھادی گئی ۔وہ اس کی قیمت سو روپے مقرر صفحہ نمبر 19 کی عبارت کرنا چاہتے تھے مگر یہ خیال ترک کر دیا ۔مسلمانان ہند کو اپیلیں کی گئیں کہ وہ پیشگی رقوم بھجیں ۔یہ وعدہ کیا گیا کہ اس کتاب کی پچاس جلدیں آئیں گی جن میں اسلام کی حقانیت کے ڈھیر لگا دیے جائیں گے مگر اس کی صرف پانچ جلدیں چھپ سکیں۔ پہلی چار ١٨٨٤ ء جب کہ پانچویں جلد ٢٣ سال کے بعد ١٩٠٨ میں یعنی مرزا کی وفا ت کے بعد منظر عام پر آسکی۔ براہین احمدیہ میں مرزا کی بہت دلچسپ وحی ،کشف اور الہامات کے نمونے درج ہیں ۔مرزا نے اپنے مستقبل کے فاسد منصوبوں کی تکمیل کے لیے ان الہامات وغیرہ کو خام مواد کے طورپر استعمال کیا درحقیقت اس نے ابتدا ہی میں خفیہ طور پر نبوت کا دعوٰی کر دیاتھا ۔(براہین احمدیہ کی تدوین کے وقت مرزا غلام احمد نے اپنے اصل مدعا ء یعنی دعوٰ ی نبوت کو چھپائے رکھا اور بڑی عیاری سے اس کو مناسب وقت کے لیے مؤخر کر دیا ۔١٧اگست ١٨٩٩ء کو '' دنیا میں ایک نبی اصیا جس کو دنیا نے قبول نہ کیا ''۔اس سے قبل جب وہ براہین احمدیہ کی تدوین میں مصروف تھا دعوٰ ی نبوت کے خلاف مسلمانوں کے سخت ردعمل کی وجہ سے اس نے اپنی وحی کی نام نہاد دوسری قرأت بیان کی ۔''دنیا میں ایک نذیر آیا '' ۔یہ بڑے واضح طور پر ظاہر کرتاہے کہ وہ کس درجہ محتاط تھا اور اس کی وحی اور خوابوں میں کیا منصوبے پنہاں تھے ۔''تذکرہ '' ۔صفحہ نمبر ١٠٤ ) نہ تو اس وقت کوئی مناسب وقت تھا نہ ہی وہ اس احمدی ناٹک کے ابتدائی مرحلہ میں مسلمانوں کے غیض و غضب کو للکارنے کی ہمت رکھتاتھا۔اس کتاب کی تیسری جلد میں اس نے فصیح و بلیغ اندازمیں برطانوی راج کی تعریف کی اور اپنے گھرانے کو برطانوی سامراج کے سب سے مخلص اور وفادار کے طور پر متعارف کرایا ا س نے پر زور طریقے سے اپنے آپ کو وحی کا حامل گردانااور برطانوی حکومت کے خلاف جہاد کو اللہ کی طرف سے ممنوع قرار دیا ۔اس نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ انجمن اسلام لاہور (ایک نجی ادارہ جو مسلمانوں کے لیے کام کرتا تھا ۔) اور اس کی شاخوں کو ہندوستان کے مقتدر علماء سے جہاد کے خلاف فتاوی حاصل کرنے چاہئیں اور انہیں کتابی شکل میں اس کے سرورق ''علماء ہند کی جانب سے خطوط کا مرقع '' کے تحت چھاپ دینا چاہیے ۔اس کی پنجاب اور خصوصی طورپر ہندوستان شمال مغربی حصوں میں وسیع پیمانے پر تقسیم کرنی چاہیے تاکہ ہنٹر کی کتاب ''ہندوستانی مسلمان '' میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیا جاسکے اور جہاد کے قائل مسلمانوں کے دلوں سے اس تصور کو اکھاڑ ا جا سکے۔ ٦ مسلمانان ہند نے مرزصاحب کی نیت کو مشکوک جان کر اس کی ان تحریروں کے خلاف سخت رد عمل ظاہر کیا جن میں برطانوی راج کی مدح و توصیف اور دنیا ئے اسلام کے دیگر حصوں پر اس کے قیام ک خواہشات درج تھیں ۔کتاب کی 5. Mirza Bashir Ahmad,Searat-ul-Mahdi, vol.1 p.93 6. Brahin-e-Ahmadya,vol.3 P.A