ماہنامہ انوار مدینہ لاہورجولائی 2002 |
¾اكستان Ù |
|
چلہ کشی کے لیے چلے گئے ۔چلے کے مکمل ہونے پرآپ نے ٢٠فروری ١٨٨٦ء کو یہ اعلان چھپوایا کہ انہیں ایک ذہن اور خوبصورت بچہ عطا ہو گا اس کانام عمانویل اور بشیر ہو گا ۔وہ اول اور آخر کا روپ ۔سچائی اورعظمت کا مظہر ہوگا ۔جیسے اللہ تعالی بذات خود عالم بالا سے اُتر آیا ہو ۔نتیجہ آپ کے بیٹے مرزا (بشیر الدین ) محمود احمد نے دعوٰی کیا کہ وہ ہی موعود بیٹا ہے ۔آپ نے ١٩٤٤ء میں ایک تو مرزا صاحب کی مبہم تحریر دوسرے اپنی وحی کی بناء پر''مصلح موعود ''ہونے کا دعوٰی کیا ۔ یکم دسمبر ١٨٨٨ء کو مرزا صاحب نے اعلان کیا کہ انہیں خدا نے بیعت اور جماعت بنانے کا حکم دیا ہے۔ بیعت ہونے کے لیے دس شرائط قبول کرناتھا۔ان میں چوتھی شرائط اگرچہ عمومی نوعیت کی تھی ،لیکن ہر احمدی کو پابند کرتی تھی کہ وہ حکومت برطانیہ کا وفادار رہے گا ۔ آپ نے رسمی طورپر لدھیانہ میں٢٣مارچ ١٨٨٩ء کو بیعت لی ۔جماعت میں داخلے کی چوتھی شرط پر مرزا محمود اس طرح خیال آرائی کرتے ہیں : ''اپنے آغاز سے یہ جماعت حکومت کی وفادار ہے اور ہر طرح کی بد نظمی اور پریشانیوں سے دور رہی ہے ۔اس تحریک کے مقدس بانی نے اسے تحریک میں شمولیت کی بنیادی شرط کے طورپر مقرر کیا ہے کہ ہر رکن قانونی طور سے قائم حکومت کی مکمل اطاعت کرے اور بغاوت کی طرف لے جانے والے تمام راستوں سے پرہیز کرے۔اس حکم کی تعمیل میں جماعت احمدیہ کے پیروکاروں نے ہمیشہ اپنے آپ کو احتجاج کی ہر طرح کی اقسام سے علیحدہ رکھا ہے اور دوسرے لوگوں کی ایک کثیر تعداد پر بھی اپنا اثر ونفوذ ڈالا ہے''۔ (مرزا محمود احمد ۔''تحفہ شہزادہ ویلز شہنشاہ معظم۔ویلز کے شہزادے کی خدمت میں تحفہ ۔منجانب احمدیہ جماعت نشرو اشاعت ۔صدر انجمن احمدیہ ۔قادیان ۔راج ہنس پریس ۔دلی ۔جنوری ١٩٢٢ء صفحہ نمبر ٥)۔ (جاری ہے