(۴) اس سے بالکلیہ اجتناب ضروری قرار دیا گیا۔
(۵) اس سے اجتناب کو فلاح کا ذریعہ بتایا گیا۔
(۶) اس کی حرمت کا سبب واضح کیاگیا کہ اس سے باہم عداوت و نفرت پیدا ہوتی ہے۔
(۷) واضح کیا گیا کہ نشے کا عادی بناکر شیطان تم کو اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کرتا ہے ، اور چونکہ ذکر الٰہی روح کی غذا اور قلب کا سکون ہوتا ہے اور نماز منکرات و فواحش سے رکاوٹ اور قرب الٰہی کا باعث عمل ہے، اور نشے کی لعنت ان دونوں سے غافل کر کے انسان کے دل کو بے سکون، روح کو بے کیف، قرب الٰہی سے محروم اور منکرات و فواحش کا عادی بنادیتی ہے۔
(۸)اللہ نے زجر و توبیخ کے انداز میں فرمایا ہے کہ جب شراب کی لعنت اتنی خرابیوں کا مجموعہ ہے توکیا پھر بھی تم اس سے باز نہیں آؤگے؟
(۹) اللہ و رسول کی اطاعت فرض ہے اور اس کا تقاضا شراب و نشہ سے مکمل گریز ہے۔
(۱۰) سختی سے فرمادیا گیا کہ یہ حکم الٰہی ہے، اس سے اعراض کروگے تو نتیجے کے ذمہ دار خود ہوگے، رسول کے ذمے حق پہونچانا ہے، وہ پہونچا چکے، ماننا تمہارے ذمے ہے ، نہیں مانو گے توخود نقصان اٹھاؤ گے۔
جب شراب کی حرمت کا یہ قطعی حکم شریعت کی طرف سے آیا تھا تو یک لخت تمام صحابہ نے شراب چھوڑدی تھی، مدینہ کی گلیوں میں شراب کے مٹکے توڑدیئے گئے، سڑکوں پر شراب بہا دی گئی، چونکہ ان آیات میں بیداریٔ ضمیر کے لئے اور فطرت انسانی کوسلامت رکھنے کیلئے امتحاناً یہ سوال بھی اللہ نے کیا ہے کہ کیا اب بھی تم اتنی بری اور