وَ الْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ، اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ أَنْ یُوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَائَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلَوۃِ، فَہَلْ أَنْتُمْ مُنْتَہُوْنَ، وَأَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ أَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا، فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْا أَنَّمَا عَلَیٰ رَسُوْلِنَا الْبَلاغُ الْمُبِیْنُ۔ (المائدہ/ ۹۰-۹۲)
اے ایمان والو! شراب، جوا، مورتیاں اور جوئے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں ، لہذا ان سے بچو ، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو، شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے ، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے، اب بتاؤ کہ کیاتم ان چیزوں سے باز آجاؤ گے؟ اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کاکہنامانو اور نافرمانی سے بچتے رہو، اور اگر تم اس حکم سے منہ موڑوگے توجان رکھو کہ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صاف صاف طریقے سے اللہ کے حکم کی تبلیغ کردیں ۔
ان آیات میں انتہائی حکیمانہ اور قطعی انداز میں مختلف الفاظ واسالیب کے ذریعہ شراب کی حرمت اور شناعت و قباحت آشکارا فرمائی گئی ہے۔
(۱) شراب کی حرمت کو بت پرستی کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ، گویا یہ برائی شرک کے مماثل ہے۔
(۲) اسے نجاست و پلیدی قرار دیا گیا۔
(۳) اسے شیطانی عمل بتایا گیا۔