فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
مولانا فرماتے ہیں کہ یہ حاسد اپنے اندر کس قدر کینہ رکھتا ہے۔ حاسد سے مراد شیطان ہے اور نفس بھی مراد ہوسکتا ہے کیوں کہ دونوں ہی کی دشمنی منصوص ہے۔ شیطان کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ؎ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ اور نفس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اِنَّ اَعْدٰی عَدُوِّکَ فِیْ جَنْبَیْکَ؎ تیرا سب سے بڑا دشمن تو تیرے پہلو میں ہے۔ اور نفس وشیطان دونوں بھی مراد لیے جاسکتے ہیں، لیکن شیطان کا یہاں مراد ہونا زیادہ اقرب الی القیاس ہے کیوں کہ دشمن ازلی اور مردودِ ازلی ہے، اس کی دشمنی کبھی ختم نہیں ہوسکتی، اور نفس کا اگر تزکیہ ہوجائے تو یہ ولی اللہ بھی ہوجاتا ہے ۔ ’’تا چہ‘‘مبالغہ ہے، یعنی یہ ظالم ہم سے کتنا حسد رکھتا ہے ۔ پس اے خدا!میں اس دشمن کے خلاف آپ سے فریاد کرتا ہوں۔ جیسے کوئی دشمن کسی بچے کو مار رہا ہو تو وہ بچہ اپنے ابّا کو پکارتا ہے، پس اے اللہ! اس دشمن شیطان اور دشمن نفس کے ستانے پر ہم آپ ہی کو پکار رہے ہیں کہ آپ سے ہماری فریاد ہے کہ اس دشمن کی پٹائی سے ہمیں بچالیجیے۔ گر یکے فصلِ دگر درمن دمد برد خواہد از من ایں راہ زن نمد مولانا فرماتے ہیں کہ اگر اعمالِ صالحہ کی کوئی دوسری فصل میرے اندر پیدا ہوجائے تو یہ ڈاکو اس کو بھی کاٹ کر اُٹھالے جائے گا۔ یعنی اگر آپ کی حفاظت نصیب نہ ہوگی تو جو کچھ تہجد واشراق اور اوّابین کی کمائی ہوگی وہ سب کی سب شیطان لے جائے گا، مثلاً : دکھاوا کرادیا ، یا دل میں بڑائی ڈال دی، یا کسی پر بے جا غصہ کرادیا ، یا حسینوں پر بدنگاہی کرادی ، یا غیبت کرادی تو نیک اعمال کا جو اسٹاک تھا اس طرح سب ختم ہوگیا اور اسے خبر بھی نہیں ------------------------------