فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
درسِ مناجاتِ رُومی ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء بروز منگل، بعد نمازِ عشاء، بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ، گلشن اقبال ۲، کراچی من ز د ستان و زمکر دل چناں مات گشتم کہ نماندم از نشاں ارشاد فرمایا کہ مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ میں نیکی وبدی کے دونوں اختیارات سے اپنے نفس کے مکر وفریب کے ہاتھوں مات کھاگیا یعنی میرے نفس نے مجھے اس طرح مار ڈالا کہ میرے اندر دین کا نام ونشان باقی نہیں رہا ۔ ہیں کہ از تقطیعِ ما یک تار ماند مصر بودیم و یکے دیوار ماند اپنے لباسِ دین کو گناہوں کی قینچی سے ہم نے اس بُری طرح کاٹا ہے کہ اب صرف ایک تار باقی رہ گیا ہے اور ہم دین کا ایک شہر تھے، گناہ کی تباہ کاریوں سے اب صرف ایک دیوار رہ گئے ہیں۔ اور آہ! اب تو وہ ایک دیوار بھی نہیں رہی اور وہ ایک تار بھی نہیں رہا حتیٰ کہ ہمارے ظاہر وباطن پر دین کے آثار بھی نظر نہیں آتے ۔ ہم کو دیکھ کر کوئی سمجھ بھی نہیں سکتا کہ یہ مسلمان ہیں۔ من کہ باشم چرخ با صد کاروبار زیں کمیں فریاد کرد از اختیار میری کیا حقیقت ہے جب کہ آسمان اتنا عظیم الخلقت اور عظیم الشان ہونے کے باوجود کہ سینکڑوں نظامِ شمسی وقمری اور بے شمار سیارات وکواکب ونجوم کا حامل ہے اس امتحان اختیار سے ڈر کر آپ سے فریاد کرچکا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: