فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
درسِ مناجاتِ رُومی ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ء بروز بدھ، بعد نمازِ عشاء، بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ،گلشن اقبال ۲،کراچی خواجہ تاشانیم امّا تیشہ ات می شگافد شاخ را در بیشہ ات ارشاد فرمایا کہ ایک بادشاہ کے کئی غلام آپس میں خواجہ تاش کہلاتے ہیں۔ مولانا رُومی اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! آپ ہمارے مالک ہیں اور ہم سب بندے آپس میں خواجہ تاش ہیں اور دنیا کے جنگل میں آپ کا تیشہ شاخوں کی تراش خراش اور اصلاح کرتا رہتا ہے، یعنی بندوں کے نفوس کے اصل مُزکّی آپ ہیں، اگر آپ نہ چاہیں تو کسی کی اصلاح نہیں ہوسکتی ۔ جس طرح جس باغ کے درختوں کا کوئی مالی نہ ہو تو اس کی شاخیں بے ہنگم اور ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور جن درختوں کا مالی ہوتا ہے تو وہ درخت نہایت موزوں، خوبصورت اور سبک ہوتے ہیں، کیوں کہ بے ہنگم شاخوں کو مالی اور باغبان کاٹتا رہتا ہے، اسی طرح جو شیخ سے اپنی اصلاحِ نفس کا تعلق رکھتے ہیں ان کے اخلاق واعمال نہایت معتدل اورپیارے ہوتے ہیں کہ جو اُن کو دیکھتا ہے ان کے اخلاقِ حمیدہ سے متأثر ہوتا ہے، لیکن حقیقی مزکّی اور مصلح اللہ تعالیٰ ہیں، مگر عادۃ اللہ یہی ہے کہ تزکیہ کا دروازہ اور ظاہری وسیلہ رجال اللہ ہیں، اسی لیے قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اَنۡ اَخۡرِجۡ قَوۡمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؎ اے موسیٰ! اپنی قوم کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالیے۔ حضرت حکیم الاُمت مجدّد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر’’بیان القرآن‘‘کےحاشیہ مسائل ------------------------------