فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
درسِ مناجاتِ رُومی ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ء بروز منگل،بعد نمازِ عشاء، بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ،گلشن اقبال ۲،کراچی اے خدا وند اے قدیم احسانِ تو آں کہ دانم واں کہ نے ہم آنِ تو مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ اے خدا! آپ کی شان قدیم ہے یعنی آپ ہمیشہ سے ہیں ہمیشہ رہیں گے۔ قدیم کے معنیٰ ہیں واجب الوجود، غیر حادث ، غیر فانی ، جس پر کبھی عدم وفنا طاری نہ ہوا ہو۔ اور ہم لوگ حادث ہیں، جنت بھی حادث ہے اور نعمائے جنت بھی حادث ہیں۔ حادث اس کو کہتے ہیں جس پر کوئی زمانہ عدم کا گزرا ہو ، وہ چیز نہ رہی ہو، چاہے ہونے کے بعد پھر وہ ہمیشہ قائم رہے، جیسے جنت پہلے نہیں تھی پھر پیدا کی گئی لیکن اب ہمیشہ رہے گی، اور دنیا فانی ہے ، ایک دن نہیں تھی، اب ہے اور ایک دن نہیں رہے گی۔ دنیااور اس کی لذتوں کی شراب نہ ازلی ہے نہ ابدی،اس لیے یہ تو اس قابل بھی نہیں کہ اس کا ذکر کیا جائے، اور جنت اور اس کی نعمتوں کی شراب ازلی تو نہیں ہے لیکن ابدی ہے یعنی ہمیشہ سے نہیں تھی ، پھر اللہ کے پیدا کرنے سے موجود ہوئی اور اب کبھی فنا نہیں ہوگی، اور اللہ کی ذات قدیم واجب الوجود غیر حادث غیر فانی ہے، ازلاً ابداً ہے یعنی اللہ تعالیٰ ازل سے ابد تک ہیں، ان پر کوئی زمانہ عدم کا نہیں گزرا ، ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ لہٰذا اللہ کی محبت کے نشے کو ، اللہ کے نام کی لذت کو ، اللہ کی شرابِ ازلی ابدی کو جنت کی شراب ابدی بھی نہیں پاسکتی، تو دنیا کی فانی شراب کی کیا حقیقت ہے جو نہ ازلی ہے نہ ابدی، جنت حادث ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے اور حادث کی لذت قدیم کی لذت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی کیوں کہ قدیم غیر محدود ہوتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کا کوئی کفو نہیں وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ؎ میں نکرہ تحت النفی واقع ------------------------------