فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
ساتھ ساتھ انہوں نے اس کے اندر جملہ خبریہ بھی شامل کردیا ہے کہ کبھی خبر بصورتِ امر اور کبھی امر بصورتِ خبر ہوتا ہے جیسے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : اِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ؎ جب تجھ سے حیا ختم ہوگئی تو پھر جو چاہے کر۔ تو کیا نعوذ باللہ! شریعت اجازت دے رہی ہے کہ شرم کو ختم کرکے جو چاہو کرو۔ نہیں ! یہ صورتاً امر ہے حقیقتا ً خبر ہے کہ اگر تجھ سے حیا جاتی رہی تو پھر تو ہر گناہ کرے گا کیوں کہ ہرگناہ کا سبب بے حیائی ہے ۔ اگر بد نظری کررہا ہے تو اس کا سبب بے حیائی ہے، زنا کررہا ہے تو نہایت درجے کا بے حیا ہے کہ دوسروں کی ماں بہنوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے جو اپنی ماں بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتا اور اس کو پروا نہیں کہ اللہ نے اگر مخلوق پرظاہر کردیا تو کس قدر رُسوائی ہوگی ۔ اس کے علاوہ خدا کے حکم کو توڑنا خود بے حیائی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی جھوٹ بول رہاہے تو وہ بے حیا ہے۔ حیا والا آدمی سوچے گا کہ اگر کبھی میرا جھوٹ ظاہر ہوگیا تو کیا منہ دکھاؤں گا۔ غرض ہر گناہ کی جڑ میں بے حیائی پوشیدہ ہے۔ گناہ بغیر بے حیائی وبے غیرتی کے ہوہی نہیں سکتا۔ اس لیے مولانا کے اس جملۂ انشائیہ میں جملۂ خبریہ پوشیدہ ہے کہ اللہ کو اپنا مراد بنالو۔ پس جس کی زندگی کی ہر سانس میں اللہ تعالیٰ کی ذات مقصود ومراد ہو کہ ایک لمحہ بھی اس کا اللہ سے غافل نہ ہو تو ایسا شخص چاہے مسجد میں ہو، چاہے دوکان میں سودا بیچ رہا ہو، چاہے بیوی بچوں سے باتیں کررہا ہو یا دوستوں سے خوش طبعی کررہا ہو یہ ہر وقت باغِ قُرب میں ہے اور اللہ کا راستہ اس کے لیے گویا پھولوں کے جھرمٹ اور درختوں کے سائے میں نہایت سُکون وعافیت سے گزر جائے گا اور بہت مزے میں یہ منزل تک پہنچ جائے گا۔ اسی لیے مولانا نے فرمایا کہ اے اللہ! صرف آپ ہی ہمارا مقصد ، ہمارا مقصود، ہماری مراد، ہماری آرزوؤں اور تمناؤں کا مرکز بن جائیں تاکہ آپ کا راستہ ہم پر نہایت آسان اور انتہائی لذیذ ہوجائے۔ تا چہ دارد ایں حسود اندر کدو اےخدا فریاد ما را زیں عدو ------------------------------