فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
درسِ مناجاتِ رُومی ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ء بروز اتوار، بعد نمازِ عشاء، بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ،گلشن اقبال ۲،کراچی حدِّ من ایں بود کردم من لئیم زاں سوئے حد را نفی کن اے کریم ارشاد فرمایا کہ مولانا رُومی دُعا کررہے ہیں کہ میرے کمینے پن کی حد اور انتہا جہاں تک تھی میں وہاں تک پہنچ گیا یعنی کمینے پن کی حد کردی کہ کسی کمینہ فعل سے باز نہیں آیا ، ہر قسم کے گناہوں پر جرأت کی، جیسے کہ آج کل ہمارا حال ہے کہ وی سی آر، ٹیلی وِژن، بدنظری، بے پردگی، فحاشی وغیرہ تمام خبیث اور کمینے پن کے اعمال کی حدِ انتہا اور کمال کو ہم نے چھو لیا ہے۔ پس اے میرے کریم! میں نے کمینے پن کی جن حدوں کو پار کرلیا ہے آپ ان حدوں کی نفی کردیجیے۔ یعنی منفی طور پر ان کمینے اعمال سے مجھ کو نکال لیجیے، جیسے ایک شخص کہیں جارہا ہے اس کے لیے یہ اس کا مثبت راستہ ہے اور منفی راستہ یہ ہے کہ اس کو ادھر سے موڑ دیا جائے، پس اے کریم! گناہوں کے جن راستوں کا میں اثبات کررہا ہوں اور ان خبیث راستوں پر گامزن ہوں آپ اپنی توفیقِ اطاعت وفرماں برداری سے اس کی نفی کردیجیے۔ آپ کی اطاعت وفرماں برداری کا یہ منفی راستہ جو معصیت اور نافرمانی کی نفی کرتا ہے گناہوں کے ان مثبت خبیث راستوں کو قطع کرنے والا ہے جن پرمیں چل رہا ہوں۔ آپ کی رضا واطاعت وفرماں برداری کا یہ راستہ ترکِ معصیت کے لحاظ سے منفی ہے۔ پس منفی کی دو قسمیں ہوگئیں: ایک منفی ہے اطاعت کی، یہ گناہ ہے۔ اور ایک منفی ہے معصیت کی، یہ ثواب ہے، جیسے ایک شخص نے نماز چھوڑ دی تو منفی تو یہاں بھی ہوئی لیکن یہ منفی اطاعت کی ہوئی اس لیے عذاب اور گناہ ہے اور ایک شخص نے گناہ چھوڑ دیا، گناہ کی نفی ہوئی، تو یہ منفی ثواب ہے۔ ایک جگہ منفی عذاب ہے اور ایک جگہ منفی ثواب ہے۔ اس لیے مولانا درخواست کررہے ہیں کہ اے اللہ! مجھے