فغان رومی |
§ہم نوٹ : |
|
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِفُغانِ رُومی درسِ مناجاتِ رُومی ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991ء بروز دوشنبہ بعد نمازِ عشاء، بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ، گلشن اقبال ۲، کراچی اے خدائے با عطا و با وفا رحم کن بر عمرِ رفتہ بر جفا ارشاد فرمایا کہ مولانا رُومی اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ! آپ باعطا بھی ہیں اور باوفا بھی ہیں ۔ اب سوال ہوتا ہے کہ عطا کو وفا سے کیا نسبت ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ ہر عطا کا سبب وفا اور محبت ہے۔ حق تعالیٰ کے جو بے پایاں عطا وانعامات ہیں ان کا سبب اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ محبت ہے۔ اور دنیا کے جتنے با عطا لوگ ہیں کسی مرحلے پر وہ وفا سے مجبور اور عطا سے معذور ہوجاتے ہیں ، مثلًا:کسی کا گہرا دوست مقروض ہوگیا اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے دوست کی مدد کرے لیکن اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ اس کا قرض ادا کرسکے یا دوست کی دشمن پٹائی کررہے ہیں اور یہ دوست کی مدد کو آیا لیکن چار دشمنوں نے اسے بھی پکڑ لیا، یہ شخص باوفا ہونے کے باوجود باعطا ہونے پرقادر نہیں، وفا سے مجبور اور عطا سے معذور ہوگیا۔ لیکن اے اللہ! صرف آپ کی ذات ہے کہ کوئی چیز آپ کی عطا میں مانع نہیں ہوسکتی کیوں کہ آپ عَزِیْز ہیں،