Deobandi Books

فغان رومی

ہم نوٹ :

95 - 290
اسی درجے کی بے اطمینانی عقلاً  مستلزم ہونی چاہیے۔ یہ میں منطق کی عقلی  دلیل پیش کررہا ہوں، کیوں کہ اَلَا بِذِکۡرِ اللہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ؎ میں حصر ہے، لہٰذا جب اطمینانِ قلب  اللہ کے ذکر ہی پر موقوف ہے تو ذکر سے جتنے  درجہ دوری ہوگی اتنے ہی درجہ بےاطمینانی مستلزم ہوئی۔ اگر اللہ کی یاد سے ایک اعشاریہ دوری ہوئی تو قلب میں ایک اعشاریہ بے اطمینانی پیدا ہونا لازم ہے۔ اور اگر گناہ کرلیا تو قلب مکمل طور سے  بے چین ہوجائے گا، کیوں کہ گناہ خلافِ ذکر ہے بلکہ غفلت کا فردِ کامل ہے۔ محض غفلت سے باطن کو اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا گناہ سے پہنچتا ہے، مثلاً: تھوڑی دیر کھانے پینے میں ایسا مشغول ہوا کہ اللہ کی یاد سے غافل ہوگیا یا کسی کے لطیفوں میں ایسا غرق ہوا کہ پیٹ کی گہرائی سے ہنسنا شروع کردیا  یہاں تک کہ اس وقت اس کے دل میں اللہ کی یاد نہیں رہی تو اس غفلت سے اتنا نقصان نہیں پہنچے گا جتنا کسی معصیت کی طرف ایک اعشاریہ قلب کا میلان ہوجائے تو دیوارِ استقامت کی بنیاد خطرے میں پڑجاتی ہے اور اگر خدانخواستہ معصیت کا ارتکاب کرلیا تو دیوارِ استقامت ہی گرجاتی ہے اور قلب بالکل بے چین ہوجاتا ہے۔
اسی لیے مولانا  رُومی دُعا کررہے ہیں کہ اے اللہ! تقاضائے معصیت کی کشمکش اور دوزخی زندگی اور مجاہدہ ومشقتِ شدیدہ اور جہدِ بلاء سے ہمیں بچالیجیے اور اپنی راہ کو ہم پر مثلِ بوستان وباغ  کے لطیف فرمادیجیے اور یہ نعمت کب حاصل ہوگی       ؎
مقصد  ما باش ہم تو  اے شریف
اے ربّ العزت ! اے میرے معزز ومکرم اللہ ! جب ہر سانس اور ہر لمحہ آپ ہمارے مقصود ومراد اور مقصدِ اعظم بن جائیں، ہمارا قصد وارادہ صرف آپ کی طرف رہے، ہماری تمنّاؤں کا مرکز صرف آپ کی ذات ہو، جب یہ مقام آپ ہم کو عطا فرمائیں گے تب جا کر ہمیں آپ کا راستہ بوستان اور باغ کی طرح لطیف ہوجائے گا۔ مولانا کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے کو باغ کی طرح لطیف اور پُر لطف بنانا چاہے وہ اللہ تعالیٰ کو ہر سانس  میں اپنا مقصود اور مراد بنالے۔ ’’مقصد ماباش‘‘ اگر چہ مولانا کا جملہ انشائیہ دُعائیہ ہے لیکن 
------------------------------

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 عرضِ مرتب 7 1
4 درسِ مناجاتِ رُومی 10 1
5 ۲۴؍ رجب المرجب ۱۴۱۱؁ھ مطابق ۱۱ ؍فروری 1991؁ء 10 1
6 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۲؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 14 1
7 ۲۶؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 26 1
8 ۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 43 1
9 ۲۸؍ رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۵؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 60 1
10 ۲۹؍رجب المرجب ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۶؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 70 1
11 یکم شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۷؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 79 1
12 ۲؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۸؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 88 1
13 ۳؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 99 1
14 ۴؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۰؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 110 1
15 ۵؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۱؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 116 1
16 ۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۲؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 128 1
17 ۷؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۳؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 134 1
18 ۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۴؍ فروری ۱۹۹۱ ؁ء 142 1
19 ۹؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۵؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 149 1
20 ۱۰؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۶؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 155 1
21 ۱۱؍شعبان المعظم ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۷ ؍فروری ۱۹۹۱ ؁ء 164 1
22 ۱۵؍ذوقعدہ ۱۴۱۱ ؁ھ مطابق ۲۹؍مئی ۱۹۹۱ ؁ء 167 1
23 ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 182 1
24 ۲۱؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۱ء؁ 193 1
25 ۲۲؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۱ ؁ء 202 1
26 ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۲؍ نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 213 1
27 ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۳؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 225 1
28 ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۱۲ ؁ھ مطابق ۴؍نومبر ۱۹۹۱ ؁ء 230 1
29 ۱۲؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۴؍مئی ۱۹۹3 ؁ء 242 1
30 ۱۳ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 245 1
31 ۱۴ ؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۶؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 253 1
32 ۱۶؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 258 1
33 ۱۷؍ ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۹؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 265 1
34 ۱۸؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۰؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 274 1
35 از مناجات خاتمِ مثنوی 281 1
36 ۱۹؍ذوقعدہ ۱۴۱۳ ؁ھ مطابق ۱۱؍مئی ۱۹۹۳ ؁ء 281 1
38 عنوانات 5 2
39 ضروری تفصیل 4 1
40 قارئین ومحبین سے گزارش 4 1
41 عنوانات 5 1
42 اس کتاب کا تعارف 290 1
Flag Counter