فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
کے لطیف ، لذیذ اور خوشگوار کردیجیے جس طرح باغ میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو لیے ہوئے آتی ہیں اسی طرح ہمارے لیے اپنے راستے کو مزے دار کردیجیے۔آپ کا راستہ تو اے اللہ! مزے دار ہے ہی لیکن ہم گناہ کرکے آپ کے راستے کو بے مزہ کرتے ہیں۔ جو لوگ گناہ کی عادت میں مبتلا ہیں ان کے لیے اللہ کا راستہ بوستان نہیں رہتا کیوں کہ گناہوں کی وجہ سے وہ ہر وقت کشمکش میں مبتلا ہیں اور کثرتِ معصیت سے تقاضائے شہوت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے جب تک نماز پڑھتے ہیں، جب تک تلاوت کرتے ہیں، جب تک ذکر میں مشغول ہوتے ہیں سکون سے رہتے ہیں اور جہاں فارغ ہوئے ان کو پھر پُرانا پاپ یاد آجاتا ہے اور پھر کشمکش اور دوزخی زندگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اور جو گناہوں سے محفوظ ہیں ان کے لیے اللہ کا راستہ باغ ہی باغ ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص جارہا ہے اور راستے کے دونوں طرف درخت ہی درخت اور باغ ہی باغ ہیں اور درختوں کے سائے میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں میں چلا جارہا ہے، اس کا راستہ نہایت آسان ، مزے دار اور خوشگوار ہے اور دوسرا شخص جو نماز روزہ اور ذکر وتلاوت بھی کرتا ہے لیکن گناہوں میں بھی مبتلا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ جب تک ذکر وتلاوت میں مشغول ہے تو گویا درخت اور باغ کے سائے میں جارہا ہے، لیکن جیسے ہی گناہ کا مرتکب ہوا تو باغ کا سایہ دار راستہ ختم ہوگیا اور کڑاکے کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں آگیا۔شہواتِ نفسانیہ اور تقاضائے معصیت کے ارتکاب کا راستہ اضطراب اور بے چینی کی شدید دھوپ اور گرم لُو کا راستہ ہے جہاں چین اور اطمینان کا خواب بھی نظر نہیں آتا۔ اگر احساسِ صحیح اور قلب ِ سلیم ہے تو گناہ کے نقطۂ آغاز اور زیرو پوائنٹ ہی سے پریشانی اور بدحواسی شروع ہوجاتی ہے، مثلاً: ایک شخص نے اپنے قلب کا رُخ نوے ڈگری اللہ کی طرف کیا ہوا ہے، لیکن جیسے ہی ذرا سا کسی حسین کی طرف جھکا تو قلب میں اسی وقت پریشانی کا آغاز ہوجائے گا۔ گناہ کے میلان اور تقاضوں پر عمل کا مبہم خیال اور نقطۂ آغاز اللہ کے قُرب سے اسی قدر دور کردیتا ہے اور قلب کا سکون چھین لیتا ہے، کیوں کہ ہر گناہ منافی ذکر ہے اور ذکر پراطمینانِ قلب موعود ہے، تو جس درجہ ذکر کا ضد ہوگا