فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
میرے پیارے اللہ! مجھے دُعا کا مضمون بھی تعلیم فرمائیے، مجھے مانگنا سکھادیجیے، ایسی دُعا مانگنے کی توفیق عطا فرمایئے اور ایسے مضامینِ دُعا الہام فرمائیے جس سے آپ خوش ہوجائیں۔ اٰتنا فی دار دنیانا حسن اٰتنا فی دار عقبانا حسن اے اللہ!آپ ہم کو دنیا میں بھی بھلائیاں دیجیے اور آخرت میں بھی بھلائیاں عنایت فرمائیے۔علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر رُوح المعانی میں رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّفِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً؎ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ دنیا کی بھلائیاں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس دُعا میں مانگنے کا حکم دیا ہے یہ ہیں : نیک بیوی ، نیک اولاد، رزقِ حلال، علم وعمل، ثنائے خلق یعنی مخلوق میں تعریف اور نیک نامی ، عافیت اور مخلوق کی محتاجی سے حفاظت ، دشمنوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی نصرت، کتاب اللہ کی فہم یعنی دین کی سمجھ اور نیک بندوں کی صحبت۔؎ حَسَنَۃً کی جو تفسیر بیان ہوئی اس کو تو سب مانتے ہیں لیکن بعض لوگ صحبتِ صالحین کو حَسَنَۃً فِی الدُّنْیَا نہیں سمجھتے، لیکن مفسرِ عظیم علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ جو اہل اللہ سے دور ہے وہ دنیا کی بہت بڑی بھلائی سے محروم ہے۔ اور آخرت کی حَسَنَۃ جنت ہے ، محشر کی ہولناکیوں اور سوءِ حساب سے حفاظت اور دیدارِالٰہی کی لذت ہے۔ پس اے اللہ! ہمیں دنیا کی بھلائیاں بھی عطا فرمائیے اور آخرت کی بھلائیاں بھی عطا فرمائیے ،آمین۔ راہ را بر ما چوں بستاں کن لطیف مقصدِ ما باش ہم تو اے شریف مولانا رُومی دُعا مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ! ہم پر اپنے راستے کو یعنی راہِ سلوک کو مثل باغ ------------------------------