فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
چوں نمودی قدرتت بنمائے رحم اے نہادہ رحم ہا در لحم و شحم اے اللہ! جب آپ نے اپنی قدرت کا ظہور فرمادیا تو اپنا رحم بھی ہم کو عنایت فرمادیجیے۔ آپ کی قدرت تو ہر طرف ظاہر ہے، پس اگر آپ کا رحم بھی ظاہر ہوجائے تو ہمارا کام ہی بن جائے۔ رحم سے مراد وہ رحمتِ مخفیہ ہے جس سے بندوں کو آپ اپنا بناتے ہیں، ورنہ آپ کی رحمتِ عامہ تو ہر لمحہ ہر آن بندوں پرہے اور آپ کی قدرت نے ہمیں وجود بخشا، منی جیسی ناپاک چیز پر آپ نے کیا فٹنگ کی ہے کہ اس پر آنکھ کان ناک بنادیے، ورنہ ماں کے پیٹ میں ہم خونِ حیض اور باپ کا نطفۂ ناپاک تھے ۔ اسی قطرۂ منی کو آپ نے بینا کردیا، گویا کردیا، جس سے آج ہم ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں، بول رہے ہیں، ہنس رہے ہیں، ایک دوسرے کی سن رہے ہیں، ایک دوسرے کی سمجھ رہے ہیں، ایک ناپاک قطرے کو آپ نے کہاں سے کہاں پہنچادیا۔ جب آپ نے اپنی قدرت کا اتنا ظہور فرمادیا تو اپنا رحم بھی ہم پر ظاہر فرمادیجیے، کرم بھی فرمادیجیے۔ اے وہ ذات کامل القدرۃ جس نے لحم وشحم میں رحم رکھ دیا، مثلاً ماں باپ کے گوشت اور چربی میں مامتا اور رحمت وشفقت کا مادہ رکھ دیا۔ انسان کا پورا جسم لحم وشحم سے بنا ہوا ہے ۔ اس لحم وشحم میں رحم کا مال آپ کا رکھا ہوا ہے ، ماں باپ کے کلیجے میں اولاد کی مامتا اور شفقت اور محبت آپ کی رکھی ہوئی ہے، جس سے آپ کی مخلوق کا یہ حال ہے کہ ماں باپ اولاد پر اپنی جان قربان کرتے ہیں، تو جب آپ کی عطا فرمودہ مخلوق کی رحمت کا یہ حال ہے تو آپ تو رحمت کا سر چشمہ ، مرکز اور منبع ہیں اور آپ رحم کرنے میں لحم وشحم سے بے نیاز ہیں، لہٰذا آپ ہم پر براہِ راست رحم فرمادیجیے۔ ایں دعا گر خشم افزاید ترا تو دعا علیم فرما مہترا اگر میری یہ دُعا بوجہ میرے نقصانِ فہم اور کوتاہیٔ تعبیر اور نقصِ عرض ومعروض کے اپنے عنوان ومضمون کے اعتبار سے آپ کو ناپسند اور میرے لیے موجبِ غضب ہے تو اے