فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
کے اندر روٹی سے خون بنا، کانوں میں جاکر وہی خون قوتِ سامعہ بنتاہے ، مجال نہیں کہ وہ دیکھنے لگے، آنکھوں میں جاکر وہی خون قوتِ باصرہ بنتا ہے، مجال نہیں کہ وہ سامعہ بن جائے ، زبان میں جا کر وہی خون قوتِ ذائقہ بنتا ہے، مجال نہیں کہ وہ سونگھنے لگے، ناک میں وہی خون قوتِ شامہ بنا، مجال نہیں کہ وہ چکھنے لگے۔ وہی خون دماغ میں جا کرعقل وفہم بن گیا۔ جس مقام پر وہ خون جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ قاہرہ سے اسی مقام کی طاقت اس کو بنادیتے ہیں۔ جس طرح ایک ہی غذا ہے، ایک ہرن میں وہ مینگنی بن جاتی ہے اور اسی غذا کو دوسرا ہرن کھاتا ہے تو وہی غذا مشک بن جاتی ہے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہیں۔ وہی کھانا کھا کر ایک ولی اللہ اشکبار آنکھوں سے سجدے میں خدا کو یاد کررہا ہے اور وہی روٹی کھا کر ایک شخص بدمعاشی کررہا ہے ، زنا کررہا ہے، بدنظری کررہا ہے، ذرا سوچو کہ روٹی وہی ہے لیکن ایک شخص کی روٹی اسے عرشِ اعظم تک لے جاتی ہے اور دوسرے کی روٹی اس کو اَسْفَلُ السَّافِلِیْنَ میں پہنچاتی ہے۔ ایک روٹی اس کو مقامِ عزّت پر لے جاتی ہے اور وہی روٹی کھا کر دوسرا ذلّت اُٹھاتا ہے۔ ایک شخص روٹی کھا کر نیک اعمال کی توفیق سے ولایتِ خاصّہ سے مشرف ہوتا ہے کہ ساری دنیا اس کے قدموں کو چومے اور دوسرا وہی روٹی کھا کر مادّۂ شہوت میں مبتلا ہو کر بازار میں جوتے کھارہا ہے اور ہر شخص کہہ رہا ہے کہ مارو خبیث کو میری طرف سے بھی دو جوتے۔ میر صاحب کا چشم دید واقعہ ہے کہ گناہ میں مبتلا ایک شخص کو پولیس پکڑ کے لے جارہی تھی، ہر دوکاندار کہہ رہا تھا کہ مارو خبیث کو میری طرف سے بھی دو جوتے۔ تو دیکھیے روٹی وہی ہے ، ایک روٹی کی طاقت سے اس پرجوتوں کی بارش ہورہی ہے اور وہی روٹی کھا کر اہل اللہ پراللہ کی رحمتوں کی بارش ہورہی ہے ۔ ایک نے روٹی سے پیدا شدہ طاقت کو صحیح استعمال کیا اس پررحمتوں کی بارش ہے اور ایک نے غلط استعمال کیا اس پر جوتوں کی بارش ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اے خدا! آپ کے کرم اور آپ کی مہربانی کے سوا خون کے درمیان عقل وفہم کی دولت کو کون پیدا کرسکتا ہے،کیوں کہ خون تو ناپاک ہے اور ناپاک چیز سے بُری اور مذموم شے مثلاً بے عقلی وبدفہمی کا پیدا ہونا تو قرینِ قیاس تھا، لیکن