فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
دل میں اللہ تعالیٰ اپنی تجلیاتِ خاصہ سے متجلی ہوا تو دنیا کی فانی بہاریں نگاہوں سے گر گئیں۔ جس کو یہ دولتِ قُرب نصیب ہوگئی پھر وہ دنیا کے حسینوں پر فدا کرکے اپنی زندگی کو تباہ نہیں کرتا۔ ساری دنیا کے حسین اس کو مجموعۂ بول وبراز نظر آتے ہیں۔ ذکر کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کی طبیعت کو ایسا لطیف کردیتے ہیں کہ حسینوں پر اچانک نظر پڑتے ہی اس کو ان کے جسم کے گراؤنڈ فلور کی گٹر لائنیں نظر آجاتی ہیں۔ ساری دنیا مُردہ ہے ، موت تو بعد میں آئے گی، ارے جیتے جی ان کی شکلیں ایسی بگڑ جاتی ہیں کہ حُسن کا سارا جغرافیہ ختم ہوجاتا ہے ۔ ذکر کی لطافت سے اللہ والوں کی طبیعت اتنی لطیف ہوجاتی ہے کہ حسینوں کے عینِ عالمِ شباب میں ان کے بڑھاپے کا انجام نظر آجاتا ہے۔ الٰہ آباد کے ایک بزرگ تھے جن کا حال ہی میں انتقال ہوا، کسی زمانے میں بڑے پہلوان تھے، انہوں نے اتنا ذکر کیا تھا کہ جانور جب ان کے سامنے سے گزرتے تھے تو ان کی نظر آر پار ہوجاتی تھی، جانوروں کا دل گردہ آنتیں وغیرہ سب ان کو نظر آجاتی تھیں۔ تو یہ ذکر اللہ کا اثر تھا جو کمالات میں سے تو نہیں ہے، مگر حالات میں سے ہے۔ درمیانِ خوں ورودہ فہم و عقل جز ز اکرامِ تو نتواں کرد نقل ارشاد فرمایا کہ جس طرح بدبودار کھاد سے اللہ تعالیٰ نے خوشبودار پھول پیدا فرمائے، اسی طرح خواہشاتِ نفس کی گندی کھاد سے تقویٰ اور محبت کے پھول پیدا فرمادیے کہ مادّۂ فجور کو دبانے سے ، خواہشاتِ نفس کو جلانے سے یعنی تقاضائے معصیت پر عمل نہ کرنے سے ہی تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور پیشاب اور خون کے درمیان سے خالص اور پاک دودھ پیدا فرمادیا ۔ مولانا رُومی حق تعالیٰ کی قدرتِ قاہرہ کا بیان فرماتے ہیں کہ اسی طرح اے خدا! آپ کی قدرت کا کمال ہے کہ خون کے اجزاء کے درمیان آپ نے عقل وفہم کو پیدا فرمادیا اور وہ عقل وفہم نظر بھی نہیں آتے۔ہم سائنس دانوں سے کہتے ہیں کہ دماغ کا ایکسرے یا آپریشن کرکے دکھائیں کہ عقل وفہم کہاں ہے یا حافظِ قرآن کا قرآنِ پاک ہی تلاش کرلیں کہ دکھلاؤ کہاں ہے وہ قرآنِ پاک جو وہ محراب میں سناتا ہے ؟ جسم