فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
اس سے عقلِ سلیم وخوش فہمی کا پیدا کرنا یہ عطا صرف آپ کا فضل ہے۔ پس کائنات میں کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو خون کے اندر عقل وفہم ، محبت وتقویٰ، خوف وخشیت اور اعمالِ صالحہ کی توفیقات پیدا کردے سوائے آپ کے اے پروردگار! عہدِ ما بشکست صد بار و ہزار عہدِ تو چوں کوہ ثابت برقرار اے خدا! ہمارا عہدِ توبہ ہزاروں لاکھوں بار ٹوٹ گیا، ہزاروں بار ہم نے عہد کیا کہ اب ہم کبھی بدنظری نہیں کریں گے، کبھی کسی نامحرم لڑکی یا اَمرد کو نہیں دیکھیں گے، کبھی گناہ نہیں کریں گے، لیکن جب بازار گئے جہاں آج کل بے پردہ لڑکیاں پھرتی ہیں تو سارے بریک فیل ہوگئے اور یہ بھی نہ سوچا کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ سے گناہ سے بچنے کا عہد کیا تھا اور ابھی توڑ دیا۔ اور کس سے توڑا اور کس سے جوڑا ؟ اللہ سے توڑا اور شیطان سے جوڑا۔ ہمارا عہد تو ایسا بودا اور ضعیف ہے، لیکن یہ ہم نالائقوں کا حال ہے، اہل اللہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ میں نے اپنے شیخ حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ راستے میں کبھی دائیں بائیں بھی نہیں دیکھتے تھے، سامنے زمین پر نظر کیے ہوئے تلاوت کرتے ہوئے جارہے ہیں۔ حضرت جانتے ہی نہیں تھے کہ دنیا کہاں ہے۔ حضرت نے اپنے شیخ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو لکھا تھا کہ حضرت! جب میں دنیا کی زمین پر چلتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں آخرت کی زمین پر چل رہا ہوں، مجھے دنیا کی زمین دنیا کی نہیں معلوم ہوتی بلکہ آخرت کی معلوم ہوتی ہے۔ حکیم الاُمت نے حضرت کا خط پڑھ کر فرمایا کہ یہ شخص اپنے وقت کا صدیق ہے، اولیائے صدّیقین کو ایسی نسبت دی جاتی ہے کہ یہ دنیا ان کے لیے حجاب نہیں رہتی ؎ مجھے تو یہ جہاں بے آسماں معلوم ہوتا ہے یہ میرا شعر ہے، آسمانوں کے حجابات اللہ اپنی رحمت سے اُٹھادیتا ہے۔ تو مولانا رُومی فرماتے ہیں کہ اے اللہ! ہمارے عہد کی شکستگی کا یہ حال ہے کہ