فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
محال ہے آپ کی قدرتِ قاہرہ کے لیے محال نہیں۔ لہٰذا یہ آپ ہی کا کرم، آپ ہی کی بخشش اور آپ ہی کی تعلیم کا اثر ہے کہ نفس کے شدید تقاضوں کی آگ میں سلامتیٔ تقویٰ کے لیے توفیقِ دُعا نصیب فرما کر آپ نے آگ میں اپنی محبت کا گلستاں کھلا کر اجتماعِ ضدّین کو اپنی قدرتِ قاہرہ سے ممکن کردیا۔ پس یہ دُعا آپ کی عطا ہے، آپ ہی نئے نئے مضمون دل میں ڈال رہے ہیں۔ بعض جاہلوں کے دل میں اللہ تعالیٰ ایسا مضمون ڈالتے ہیں کہ علماء حیران رہ جاتے ہیں ۔ ایک اَن پڑھ بزرگ اللہ سے کہہ رہا تھا کہ یا اللہ! آپ کا نام بہت بڑا نام ہے، جتنا بڑا آپ کا نام ہے اتنا ہی بڑا ہم پر رحم کردیجیے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ آپ سوچیے! کسی کریم کے پاس آدمی جائے اور کہے کہ صاحب! میں نے آپ کا بڑا نام سنا ہے، جتنا بڑا ہم نے آپ کا نام سنا ہے بس اتنا بڑا ہم پر کرم فرمادیجیے، تو بتاؤ اس کریم کے کرم میں کتنا جوش ہوگا! تو مولانا فرماتے ہیں کہ یہ دُعا آپ کی بخشش اور آپ کی تعلیم ہے ورنہ آگ کی بھٹی میں کہیں گلستاں اُگتا ہے؟ یہ آپ کا نام لینے کی توفیق ہے کہ دُعا کی برکت سے شہوت کی آگ میں آپ تقویٰ اور محبت کے پھول کھلاتے ہیں۔ حضرت اصغر گونڈوی فرماتے ہیں ؎ میں نے لیا ہے داغِ دل کھوکے بہارِ زندگی اک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹادیا زندگی کی فانی بہار کو قربان کرکے ہم نے اللہ کی محبت حاصل کی ہے، یعنی حرام خواہشات کے رنگین پھولوں کو فدا کرکے اللہ کے قُرب کی غیر فانی بہار حاصل ہوئی ہے اور تم زندگی کی فانی بہار کو بھی چاہتے ہو اور دردِ دل بھی چاہتے ہو، دونوں ناممکن ہیں۔ اللہ کے لیے جس نے کائنات کے چمن کو لٹادیا پھر اس نے پایا سب سے زیادہ مزہ ؎ صحنِ چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھاگئے یہ دنیا اپنی بہاروں اور اس کی رنگینیوں پر ناز کررہی تھی، لیکن تقویٰ کی برکت سے جب