فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
جب مجھ کو میرے دوستوں نے بھی چھوڑ دیا اور مجھ بے کس، کمزور اور حیراں وسرگرداں کو غم کے ہاتھوں میں سپرد کردیا۔ جز تو کے دیگر دراں سختی رسد در متاعب ہا تو گشتستی مدد اس وقت آپ کے سوا کون اس سختی میں میری مدد کو آیا،ان سخت حالات میں آپ ہی نے میری مدد فرمائی۔ در رسیدی زود بگرفتی مرا وا خریدی از ہمہ سختی مرا آپ کا کرم ہی اس وقت ہماری مدد کو پہنچا اور ہم گرتے ہوؤں کو سنبھال لیا اور تمام سختیوں، مصائب وآفات سے ہم کو خرید لیا یعنی بچالیا۔ چوں شمارم من ز احسانِ تو چوں گر زباں ہر مو شود لطفت فزوں اگر میرا ہر بُنِ مو یعنی میرا رُواں رُواں اور بال بال زبان بن جائے تب بھی میں آپ کے احسانات کو شمار نہیں کرسکتا کیوں کہ آپ کا لطف وکرم بے شمار ہے اور زبان محدود۔ اور محدود خواہ کتنی ہی اکثریت میں ہو محدود ہے۔ پس محدود غیر محدود کا شکر کیسے ادا کرسکتا ہے، اس لیے میرا شکر ہمیشہ آپ کے لطف وکرم سے کم ہوگا بلکہ دونوں میں اتنی نسبت بھی نہیں ہوسکتی جو قطرے کو سمندر سے ہے۔ شکرِ احسان ترا چوں سر کنم اندریں رہ گو قدم از سر کنم آپ کے احسان وکرم کا شکر ادا کرنے کے لیے اگر راہِ تشکر میں ہم سر کے بل چلیں تب بھی حقِ شکر ادا نہیں ہوسکتا۔