فغان رومی |
ہم نوٹ : |
|
جان وگوش وچشم و ہوش و پا و دست جملہ از دُر ہائے احسانت پُر است ہماری جان اور کان آنکھیں اور ہوش اور ہاتھ پاؤں سب آپ کے احسانات کے موتیوں سے پُر ہیں۔ ہماری جان میں ایمان کا خزانہ رکھ دیا، کانوں میں شنوائی کا خزانہ رکھ دیا، آنکھوں میں بینائی کا خزانہ رکھ دیا وغیر ذالک اور یہ ایسے خزانے ہیں جو نایاب ہیں اور بازارِ دنیا میں دستیاب نہیں۔ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک اپنے جسم میں انمول، بے مثل اور نایاب خزانےلیے پھرتا ہے۔ ایسے کریم مالک کے شکر کا حق کون ادا کرسکتا ہے۔ ایں کہ شکرِ نعمت تو می کنم ایں ہم از تو نعمتے شد مغتنم یہ جو میں آپ کا شکر ادا کررہا ہوں یہ توفیقِ شکر خود ایک نعمت مغتنم ہے یعنی مفت بخشی ہوئی نعمت ہے۔ پس جب یہ توفیق بھی نعمت ہے تو اس پر شکر واجب ہوا پھر اس توفیقِ شکر پر شکرواجب ہوگا، لہٰذا ادائے شکر میں تسلسل لازم آتا ہے جو عقلاً محال ہے، اس لیے ثابت ہوا کہ کوئی آپ کے احسانات کے شکر کا حق ادا کرنے پر قادر نہیں۔ شکرِ ایں شکر از کجا آرم بجا من کئیم از تست توفیق اے خدا توفیقِ شکر پر شکر ہم کہاں تک کرسکتے ہیں کیوں کہ ہر شکر دوسرے شکر کو مستلزم ہے جس کا تسلسل عقلاً محال ہے یعنی مسلسل شکر پر قدرت عقلاً محال ہے پس ہم کیا ہیں جو حقِ شکر ادا کرسکیں، لہٰذا آپ کے شکر کا حق ادا کرنے میں ہم عاجز وقاصر ہیں۔ جو کچھ شکر کی توفیق ہے وہ سب آپ کے کرم کی ممنون ہے اگر چہ وہ شکر آپ کی نعمتوں کے مقابلے میں بے حقیقت ہے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ